• News
  • »
  • قومی
  • »
  • جنتر منتر پر احتجاج دوبارہ شروع، دہلی میں سیکیورٹی سخت

جنتر منتر پر احتجاج دوبارہ شروع، دہلی میں سیکیورٹی سخت

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jul 21, 2026 IST

جنتر منتر پر احتجاج دوبارہ شروع، دہلی میں سیکیورٹی سخت
 
 
کاکروچ جنتا پارٹی CJP نے منگل 21 جولائی کو جنتر منتر پر اپنا احتجاج دوبارہ شروع کر دیا۔ پیر کو "چلو سنسد" مارچ کے دوران ہونے والی افراتفری کے بعد دہلی پولیس نے احتجاجی جگہ خالی کروا دی تھی۔ لیکن رات گئے مظاہرین واپس جمع ہو گئے۔پولیس نے مظاہرین کو روکا نہیں اور کہا کہ پرامن احتجاج کی اجازت ہوگی۔ لیکن ساتھ ہی وارننگ بھی دی کہ اگر کوئی گڑبڑ کی یا قانون توڑا تو سخت کاروائی ہوگی۔
 

یہ تحریک کیسے شروع ہوئی 

CJP ایک تحریک ہے جو پیپر لیک اور امتحانی نظام میں دھاندلی کے خلاف ہے۔ یہ تحریک 20 جون سے چل رہی ہے۔ یہ سب چیف جسٹس آف انڈیا CJI سوریہ کانت کے "نوجوانوں کو کاکروچ" کہنے والے بیان کے بعد شروع ہوا تھا۔ اب اس احتجاج میں کارکن سونم وانگچک اور AISA کے طلبہ بھی شامل ہو گئے ہیں۔
 

دہلی پولیس نے سیکورٹی بڑھا دی

مظاہرین نے جنتر منتر پر ایک پلیٹ فارم دوبارہ قائم کیا ہے۔ اس وجہ سے دہلی پولیس نے پارلیمنٹ جانے والے راستوں پر سیکورٹی بڑھا دی ہے۔ جنتر منتر کے آس پاس کی سڑکیں کھلی ہیں، لیکن اہم جگہوں پر اضافی پولیس تعینات کی گئی ہے۔ پولیس کو ڈر ہے کہ مظاہرین پھر پارلیمنٹ کی طرف مارچ کر سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق کئی اپوزیشن لیڈر بھی احتجاج میں شامل ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف دہلی پولیس نے پیر کے مارچ میں توڑ پھوڑ اور گاڑیاں توڑنے کے معاملے میں کناٹ پلیس تھانے میں نامعلوم لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔
 

CJP کے مطالبات کیا ہیں؟

CJP کے لوگوں نے مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا(JP Nadda) سے ملاقات کی۔ انہوں نے NEET UG امتحان میں گڑبڑ کی وجہ سے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ دوبارہ دہرایا۔CJP کے ترجمان سورو داس نے X پر لکھا کہ نڈا نے کہا ہے کہ وہ ان کے مطالبات پر غور کریں گے۔ لیکن حکومت نے کوئی وعدہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا جب تک مطالبات نہیں مانے جاتے احتجاج جاری رہے گا۔CJP کے بانی ابھیجیت ڈپیکے نے کہا کہ اب وہ حکومت سے کوئی بات نہیں کریں گے۔ پیر کی رات انہوں نے جنتر منتر پر کہا کہ جو بھی بات کرنی ہے وہ احتجاج کی جگہ پر آ کرے۔
 

پیر کے مارچ میں کیا ہوا؟

پولیس کے مطابق CJP کے "چلو سنسد" مارچ کے دوران جھڑپ میں دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں کے 100 سے زیادہ اہلکار زخمی ہو گئے۔ کئی پولیس والوں کی ہڈیاں بھی ٹوٹی ہیں۔ بہت سے اہلکار ابھی مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ اس لیے زخمیوں کی تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔سوشل میڈیا پر پولیس اور مظاہرین کی جھڑپوں کی کئی ویڈیوز وائرل ہیں۔ پولیس ان ویڈیوز کی جانچ کر رہی ہے اور اس کے بعد مزید کاروائی کرے گی۔پولیس نے اب تک تقریباً 70 لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ سب طالب علم نہیں ہیں۔ ان کی تفصیلات چیک کی جا رہی ہیں۔ جھڑپ میں 15 سے 20 پولیس گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ اس پر بھارتیہ نیا سنہتا BNS کی کئی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔