کرناٹک کانگریس کے اندرونی اختلافات اب کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ پارٹی کے سینئر لیڈر اور سیرا اسمبلی حلقے سے ایم ایل اے ٹی بی جیا چندرا نے ریاستی حکومت اور کابینہ کی توسیع پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ انہوں نے یہاں تک دھمکی دی ہے کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے سکتے ہیں۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئےجیا چندرا نے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کی قیادت میں چلنے والی حکومت کے کام کاج پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ نئے بنائے گئے وزراء کے پاس حکومت چلانے کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ کابینہ میں بار بار ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے عوام میں حکومت کا منفی تاثر جا رہا ہے۔ انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ یہ کانگریس کی حکومت نہیں بلکہ ایک آل پارٹی حکومت لگ رہی ہے، جو خشک سالی اور تمل ناڈو کے ساتھ کاویری پانی کے تنازع جیسے بڑے مسائل کو سنبھالنے میں پوری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔
جیا چندرا نے بتایا کہ ان کے حلقے کے عوام اور حامی ان پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اس حکومت سے باہر آ جائیں اور استعفیٰ دے دیں۔ غورطلب ہے کہ جیا چندرا کرناٹک کی سیاست میں ملیکا رجن کھرگے کے بعد سب سے سینئر لیڈر مانے جاتے ہیں۔ وہ 56 سال سے کانگریس میں ہیں اور انہوں نے اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، سونیا گاندھی اور راہول گاندھی سمیت گاندھی خاندان کی چار نسلوں کے ساتھ کام کیا ہے۔
سیرا سیٹ سے تین بار ایم ایل اے منتخب ہونے والے جیا چندرا کو امید تھی کہ انہیں کابینہ میں وزیر بنایا جائے گا، لیکن انہیں نظر انداز کر دیا گیا۔ بعد میں انہیں پرو ٹرم اسپیکر کا عہدہ دینے کی پیشکش کی گئی، جسے انہوں نے اپنے حامیوں کے کہنے پر ٹھکرا دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی ان کے اتنے طویل سیاسی تجربے کا فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی ہے، جس سے ان کے ووٹروں میں شدید ناراضگی ہے۔ جیا چندرا کی باغیانہ تیور کرناٹک کانگریس قیادت کے لیے ایک بڑی مشکل کھڑی کرسکتی ہے۔