عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے دعویٰ کیا ہے کہ میٹا نے ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو محدود کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بار بار رابطہ کرنے کے باوجود میٹا کی جانب سے اس کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔ کیجریوال کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر اعظم نریندر مودی کی ایک ویڈیو کو ہٹانے کے معاملے پر میٹا اور مرکزی حکومت کے درمیان تنازعہ چل رہا ہے۔
کیجریوال نے کیا الزام لگایا؟
اروند کیجریوال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر میٹا انڈیا کو ٹیگ کرتے ہوئے اپنے محدود کیے گئے اکاؤنٹ کا اسکرین شاٹ شیئر کیا۔ انہوں نے میٹا کی سروس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کمپنی کو حکومت کے سامنے نہیں جھکنا چاہیے۔ کیجریوال نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کا کون سا اکاؤنٹ، فیس بک یا انسٹاگرام، محدود کیا گیا ہے۔ کیجریوال نے کہا کہ میٹا کے انڈیا دفتر سے رابطہ کرنے پر انہیں بتایا گیا کہ ان کا اکاؤنٹ بھارت میں محدود کر دیا گیا ہے، لیکن اس کی وجہ نہیں بتائی جا رہی۔انہوں نے کہا کہ نہ تو اکاؤنٹ محدود کرنے کی وجہ واضح کی گئی ہے اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ پابندی کیسے ختم کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق، ای میلز کے ذریعے رابطے پر بھی صرف معمول کے جوابات ملے ہیں۔
وزیر اعظم مودی کی ویڈیو پر تنازع
میٹا اس وقت وزیر اعظم نریندر مودی کی 23 جولائی کی ایک فیس بک پوسٹ کو عارضی طور پر ہٹانے کے معاملے پر حکومت کی تنقید کا سامنا کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، میٹا نے بعد میں اس پوسٹ کو بحال کر دیا اور اس معاملے پر وضاحت بھی جاری کی۔ مرکزی حکومت نے میٹا کے اعلیٰ عہدیداروں کو طلب کیااور کمپنی سے سوال کیا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر غیر قانونی مواد کو روکنے کے لیے کتنے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔
حکومت نے میٹا سے کیا سوال کیے؟
حکومت نے میٹا سے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد، ڈیپ فیک ویڈیوز، تصدیق شدہ اور اہم اکاؤنٹس کے تحفظ، الگورتھم میں ممکنہ تعصب اور بھارتی قوانین کی پابندی سے متعلق سوالات کیے۔رپورٹ کے مطابق، میٹا نے اعتراف کیا کہ کچھ مواد کو زیادہ پھیلانے کے لیے معاوضہ دے کر تشہیر کی گئی تھی اور کمپنی کے نظام کو بڑی مقدار میں غیر قانونی مواد کو روکنے کے لیے مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ حکومت نے میٹا سے پلیٹ فارم کی نگرانی اور مواد کو کنٹرول کرنے کے طریقہ کار پر مزید وضاحت بھی طلب کی ہے۔