کیرالہ کے ضلع کولم میں پولیس حراست میں تشدد کا ایک سنگین معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں 29 سالہ مسلم نوجوان علاج کے دوران دم توڑ گیا۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ پولیس حراست کے دوران ہونے والے تشدد کے باعث اس کی پسلیاں ٹوٹ گئیں، جس کے نتیجے میں پھیپھڑوں میں شدید انفیکشن ہوا اور بالآخر اس کی موت واقع ہوگئی۔ کنڑا علاقے کے رہائشی اور پیشے سے نجی بس ڈرائیور صیاد نے ہفتے کے روز ترواننت پورم گورنمنٹ میڈیکل کالج اسپتال میں آخری سانس لی۔
اہل خانہ کے مطابق صیاد کو 16 جون کی رات اس وقت پولیس نے حراست میں لیا تھا جب ایک 13 سالہ لڑکے کے لاپتہ ہونے کی شکایت درج کرائی گئی تھی۔ تاہم اگلی صبح لڑکا بحفاظت اپنے گھر واپس آ گیا، جس کے بعد صیاد کو بھی رہا کر دیا گیا۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ حراست کے دوران پولیس نے صیاد کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ شکایت کنندہ نے بھی الزام لگایا کہ سول پولیس آفیسر سری جیت نے پولیس جیپ میں بٹھاتے ہی صیاد کو مارنا شروع کر دیا تھا۔ ان کے مطابق وہ خود جیپ میں موجود تھیں اور انہوں نے صیاد کو درد سے چیختے ہوئے دیکھا۔
صیاد کے والد بدرالدین اور والدہ عارفہ بیوی کا کہنا ہے کہ رہائی کے بعد ان کے بیٹے نے انہیں بتایا تھا کہ پولیس نے اسے کسی اور شخص سمجھ کر بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ صیاد کو اس سے پہلے کوئی سنگین طبی مسئلہ لاحق نہیں تھا، لیکن مبینہ تشدد کے بعد وہ آٹھ دن تک پانی بھی نہیں پی سکا۔ اہل خانہ کے مطابق کولم ڈسٹرکٹ اسپتال میں ایکسرے کے دوران معلوم ہوا کہ صیاد کی کئی پسلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ بعد ازاں اس کے پھیپھڑوں میں شدید انفیکشن پیدا ہوگیا، جس کے باعث اسے ترواننت پورم گورنمنٹ میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ وینٹی لیٹر پر زیر علاج رہا، لیکن ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود جانبر نہ ہو سکا۔
خاندان کا کہنا ہے کہ صیاد گھر کا واحد کفیل تھا اور اس کے خلاف کسی قسم کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ اہل خانہ نے مبینہ طور پر واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کرکے ان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کولم ڈسٹرکٹ کرائم برانچ کے سپرد کر دی گئی ہیں، جو تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔ اہل خانہ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ریاستی حکومت، اپوزیشن لیڈر اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرل سے ملاقات کرکے اس واقعے کی غیر جانبدارانہ اور جامع تحقیقات کا مطالبہ کریں گے۔