• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • اسلامی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اونتی پورہ میں بین الاقوامی کانفرنس

اسلامی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اونتی پورہ میں بین الاقوامی کانفرنس

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Aug 03, 2026 IST

اسلامی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اونتی پورہ میں بین الاقوامی کانفرنس
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے  اسلامی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اونتی پورہ میں-  ہمالیائی خطے میں قدرت پر مبنی حل کے ذریعے موسمیاتی لچک اور روزگار کے ذرائع کو مضبوط بنانے- کے موضوع پر چار روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا افتتاح کیا۔اور 100 روزہ نشہ مُکت جموں و کشمیر جرنل۔ سمیت خصوصی میگزین جاری کیا۔ کانفرنس میں ملک و بیرونِ ملک سے ماہرین، سائنسدانوں اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔جہاں موسمیاتی تبدیلی۔ ماحولیات کے تحفظ، پائیدار ترقی اور فطرت پر مبنی حل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
 
 کیمپس میں سول و مکینیکل انجینئرنگ بلاک، لاءاسکول کا افتتاح
 
لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اونتی پورہ کے مرکزی کیمپس میں سول و مکینیکل انجینئرنگ بلاک، لارنو کیمپس اور لاءاسکول کا افتتاح بھی کیا۔انہوں نے آئی یو ایس ٹی کی مختلف پہلوں کو سراہتے ہوئے منشیات سے پاک جموں و کشمیر مہم کے حوالے سے یونیورسٹی کی جانب سے تیار کردہ پالیسی بریف کی بھی تعریف کی۔
 
 ترقی اور تحفظ ماحول ایک دوسرے کے مخالف نہیں
 
اپنے خطاب میں منوج سنہا نے ہمالیائی خطے میں موسمیاتی تبدیلی کی بڑھتی ہوئی رفتار پر تشویش کا اظہار کیا۔  اور  کہا کہ گزشتہ سال جنوری سے اگست کے دوران ہمالیہ میں تقریباً ہر روز کوئی نہ کوئی قدرتی آفت رونما ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بھی اچانک سیلاب اور بادل پھٹنے کے واقعات سے سڑکوں، پانی کی فراہمی کے منصوبوں اور بجلی کے فیڈرز سمیت اہم بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔لیفٹنٹ گورنر نے کہا کہ ترقی اور تحفظ ماحول ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ قدرت خود ایک بنیادی ڈھانچے کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ واٹرشیڈ کی تعمیر سیلاب پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ پانی صاف کرنے اور آبپاشی کے نظام کی بنیاد بھی فراہم کرتی ہے۔
 
قدرتی نظام کو تباہ کرنا دراصل اپنے مستقبل کو خطرے میں ڈالنا 
 
انہوں نے کہا کہ آبی دلدلی علاقے قدرت کے وسیع ذخائر ہیں، جو مانسون کے دوران اضافی پانی جذب کرتے ہیں اور خشک مہینوں میں اردگرد کے علاقوں کو پانی فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح گھنے جنگلات سے ڈھکی پہاڑی ڈھلوانیں مضبوط حفاظتی دیوار کی مانند کام کرتی ہیں اور پہاڑوں کو بستیوں پر گرنے سے روکتی ہیں۔منوج سنہا نے کہا کہ قدرتی نظام کو تباہ کرنا دراصل اپنے مستقبل کو خطرے میں ڈالنا ہے، جبکہ ان کے تحفظ اور بحالی میں ایک روشن مستقبل کی سرمایہ کاری مضمر ہے۔ لیفٹنٹ گورنر  منوج سنہا نے سائنسدانوں اور ماہرین پر زور دیا کہ وہ فطرت پر مبنی حل کو ترقیاتی منصوبہ بندی کے حاشیے سے نکال کر اس کے مرکز میں لائیں۔