مہاراشٹر حکومت نے ای-کے وائی سی (e-KYC) تصدیقی عمل مکمل ہونے کے بعد تقریباً 81 لاکھ خواتین کو اپنی مشہور مکھیہ منتری ماجھی لاڈکی بہین یوجنا سے خارج کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ریاست حکومت اور اپوزیشن پارٹی کے درمیان سیاسی تنازعہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔
خواتین اور اطفال کی ترقی کی وزیر آدیتی تاٹکرے نے کہا کہ یہ کاروائی صرف ان خواتین کو اسکیم سے الگ کرنے کے لیے کی گئی ہے جو اس کے لیے اہل نہیں تھی، جبکہ اپوزیشن نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اسمبلی انتخابات سے پہلے اس اسکیم کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا گیا۔
خواتین کو اسکیم سے کیوں نکالا گیا؟
آدیتی تاٹکرے کے مطابق جب یہ اسکیم شروع ہوئی تھی تو 2.63 کروڑ خواتین نے رجسٹریشن کرایا تھا، لیکن ان میں سے 2.47 کروڑ خواتین کو ہی ہر ماہ مالی امداد دی جا رہی تھی۔
بعد میں حکومت نے یہ جانچنے کے لیے ای-کے وائی سی لازمی کر دیا، یہ پتہ لگانے کے لئے کہ واقعی کون خواتین اس اسکیم کی شرائط پر پوری اترتی ہیں۔ ای-کے وائی سی کی جانچ مکمل ہونے کے بعد اسکیم سے مالی امداد حاصل کرنے والی خواتین کی تعداد کم ہو کر تقریباً 1.70 کروڑ رہ گئی۔
آدیتی تاٹکرے کے مطابق تقریباً 81 لاکھ خواتین کو ہی اسکیم سے نکالا گیا، کیونکہ وہ اسکیم کی شرائط پر پوری نہیں اترتی تھیں
کن خواتین کو نااہل قرار دیا گیا؟
آدیتی تاٹکرے کے مطابق ای-کے وائی سی کے دوران کئی ایسی خواتین سامنے آئیں جو اسکیم کی شرائط پوری نہیں کرتی تھی۔
تقریباً 62 لاکھ خواتین مقررہ وقت کے باوجود ای-کے وائی سی مکمل نہیں کر سکیں۔
تقریباً 16 لاکھ خواتین کے خاندان کی سالانہ آمدنی 2.5 لاکھ روپے سے زیادہ پائی گئی۔
تقریباً 4.42 لاکھ خواتین کے گھر کا کوئی نہ کوئی فرد سرکاری ملازم تھا، اس لیے وہ اسکیم کی اہل نہیں تھیں۔
جانچ کے دوران کچھ مردوں اور سرکاری ملازمین کے نام بھی سامنے آئے، جنہوں نے غلط طریقے سے اس اسکیم کا فائدہ حاصل کیا تھا۔
آدیتی تاٹکرے کے مطابق ای-کے وائی سی کا عمل اگست 2025 میں شروع کیا گیا تھا۔ ابتدا میں خواتین کو چھ ماہ کا وقت دیا گیا، بعد میں حکومت نے انہیں مزید موقع دیتے ہوئے اپریل تک وقت بڑھا دیا تاکہ وہ اپنی تصدیق مکمل کر سکیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جن خواتین نے ای-کے وائی سی مکمل کر لیا ہے لیکن انہیں ابھی تک مالی امداد نہیں ملی، ان کی شکایات کی جانچ کی جا رہی ہے۔
غلط طریقے سے دی گئی رقم واپس لی جا رہی ہے
آدیتی تاٹکرے نے بتایا کہ حکومت نے ایسے سرکاری ملازمین سے رقم واپس لینے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے جنہوں نے غلط طریقے سے اس اسکیم کا فائدہ اٹھایا تھا۔ ان کے مطابق یہ کاروائی تقریباً آٹھ سے دس ماہ پہلے شروع کی گئی تھی، اور واپس لی جانے والی رقم سرکاری خزانے میں جمع کی جا رہی ہے۔
لاڈکی بہین یوجنا کیا ہے؟
مہاراشٹر حکومت نے 28 جون 2024مکھیہ منتری ماجھی لاڈکی بہین یوجنااسکیم شروع کی تھی۔ اس اسکیم کا مقصد خواتین کو مالی طور پر مضبوط بنانا ہے۔
اس کے تحت 21 سے 65 سال کی اہل خواتین کو ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (DBT) کے ذریعے ہر ماہ 1,500 روپے کی مالی امداد دی جاتی ہے۔
اپوزیشن نے حکومت پر الزام لگایا
اس فیصلے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ شیو سینا (یو بی ٹی) کے رہنما سنجے راوت نے کہا کہ اس اسکیم کو غلط طریقے سے چلانے والوں کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے اور ذمہ دار وزراء اور افسران سے رقم وصول کی جائے۔
ریاستی کانگریس کے صدر ہرشوردھن سپکل نے الزام لگایا کہ حکومت نے اس اسکیم کے لیے 29,693 کروڑ روپے مختص کیے تھے، لیکن اس سے 3,541 کروڑ روپے زیادہ خرچ کیے گئے، جبکہ اس اضافی خرچ کا کوئی واضح حساب موجود نہیں۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس اسکیم پر زیادہ رقم خرچ کرنے کی وجہ سے رہائشی منصوبوں، پانی کی فراہمی اور صفائی جیسے شعبوں کے بجٹ میں کمی کر دی گئی۔
کانگریس کی رکن پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ نے بھی سوال اٹھایا کہ جب حکومت نے خواتین کو مالی امداد دینا شروع کر دیا تھا تو بعد میں اتنی بڑی تعداد میں انہیں اسکیم سے کیوں خارج کیا گیا۔