دہلی کے جنتر منتر پر 20 جولائی کو نیٹ پیپر لیک کے خلاف طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے۔ کئی ریاستوں میں بڑی تعداد میں طلبہ کو گرفتار بھی کیا گیا۔ تاہم، اب گرفتار ہونے والے طلبہ کے لیے ایک بڑی راحت کی خبر سامنے آئی ہے۔ بہار کے بعد آسام حکومت نے بھی نیٹ امتحان سے متعلق احتجاج میں شامل اسٹوڈنٹس کو بڑی راحت دیتے ہوئے گرفتار ہوئے تمام مظاہرین کی رہائی کا اعلان کر دیا ہے۔ حکومت نے اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ احتجاج کے سلسلے میں درج تمام مقدمات واپس لیے جائیں گے اور آئندہ اس معاملے میں کسی کے خلاف نئی ایف آئی آر یا کسی بھی قسم کی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے تمام 13 افراد کی رہائی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے مزید واضح کیا کہ 26 جولائی شام 6 بجے سے پہلے درج کی گئی تمام پانچ ایف آئی آر واپس لے لی جائیں گی۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نیٹ احتجاج میں شامل کسی بھی شخص کے خلاف مستقبل میں کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ اس فیصلے کو احتجاج میں شریک طلبہ اور کارکنوں کے لیے ایک اہم راحت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان سورو داس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر ایک پوسٹ کے ذریعے اس پیش رفت کی اطلاع دی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے ایک بار پھر یقین دہانی کرائی ہے کہ مظاہرین کے خلاف درج تمام مقدمات واپس لے لیے جائیں گے۔ سورو داس کے مطابق بہار اور آسام کے بعد راجستھان کے حوالے سے بھی مثبت اشارے ملے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ متعلقہ حکام کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ راجستھان میں بھی نیٹ احتجاج میں شامل مظاہرین کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ بہار اور آسام میں جاری سرکاری نوٹیفکیشن کے بعد انہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ راجستھان میں متعلقہ حکام کو مزید کارروائی سے روکا جائے گا، تاکہ احتجاج میں شریک طلبہ اور کارکنوں کے خلاف کوئی نیا مقدمہ درج نہ ہو۔اگرچہ آسام حکومت نے اپنے فیصلے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، تاہم راجستھان کے حوالے سے سورو داس کے دعوے پر ابھی تک ریاستی حکومت کی جانب سے کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔