مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی جمعرات کی رات جنوبی کولکتہ کے سخاوت میموریل اسکول پہنچیں، جو بھبانی پور اسمبلی حلقہ کے ووٹوں کی گنتی کا مرکز ہے۔ یہاں 29 اپریل کو ہونے والے انتخابات کے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے لیے اسٹرانگ روم قائم کیا گیا ہے۔
ممتا بنرجی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ جہاں ای وی ایمز رکھی گئی ہیں وہاں مبینہ طور پر ہیرا پھیری کی جا رہی ہے، جس کے بعد انہوں نے خود موقع پر جا کر صورتحال کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب وہ وہاں پہنچیں تو مرکزی فورسز نے انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی، حالانکہ قواعد کے مطابق امیدواروں اور الیکشن ایجنٹس کو سیل بند کمرے تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بعد میں انہوں نے ریٹرننگ آفیسر (آر او) سے اجازت لی۔ ممتا بنرجی نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے ووٹوں میں دھاندلی کی کوشش کی تو وہ آخری سانس تک اس کے خلاف لڑیں گی۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کے ایجنٹس سے اپیل کی کہ وہ اپنے ووٹوں کی حفاظت کریں لیکن کسی بھی قسم کے تصادم سے گریز کریں۔
دوسری جانب بی جے پی رہنما دلیپ گھوش نے ممتا بنرجی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جو ہار رہا ہوتا ہے وہی شکایت کرتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں بڑی تعداد میں ووٹنگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تبدیلی کی لہر موجود ہے، جس کی وجہ سے ترنمول کانگریس دباؤ میں ہے اور مسلسل شکایات درج کرا رہی ہے۔