اتر پردیش کے شہر مرزا پور میں جم (Gym) کے اندر خواتین کے مبینہ جبری تبدیلیِ مذہب اور بلیک میلنگ کے ہائی پروفائل کیس میں پولیس نے بڑی کاروائی کی ہے۔ پولیس نے اس معاملے کی تفصیلی تحقیقات مکمل کرتے ہوئے عدالت میں تقریباً چھ ہزار صفحات پر مشتمل چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔ اب یہ معاملہ عدالتی کاروائی کے اگلے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جائیں گے۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
یہ معاملہ رواں سال 19 جنوری کو اس وقت منظرِ عام پر آیا تھا جب دو لڑکیوں نے دیہات کوتوالی تھانے میں شکایت درج کرائی تھی۔ الزامات کے مطابق:شہر کے مختلف جموں میں آنے والی لڑکیوں سے پہلے دوستی کی جاتی تھی اور پھر ان کا بھروسہ جیت کر ان کی قابلِ اعتراض ویڈیوز بنائی جاتی تھیں۔ان ویڈیوز کے ذریعے لڑکیوں کو بلیک میل کر کے رقم وصول کی جاتی تھی اور ان پر دباؤ ڈالا جاتا تھا۔متاثرہ لڑکیوں نے الزام لگایا کہ انہیں برقع پہننے، مخصوص مذہبی مقامات پر لے جانے اور کلمہ پڑھوا کر مذہب تبدیل کرنے کے لیے مجبور کیا جاتا تھا۔
جم نیٹ ورک اور گرفتاریاں:
تحقیقاتی ایجنسیوں کے مطابق یہ نیٹ ورک ضلع کے کئی جموں تک پھیلا ہوا تھا، جن میں 'خواجہ غریب نواز' (KGN) کی تین شاخیں، 'بی فٹ' اور 'آئرن فائر' جم شامل ہیں۔ پولیس نے اس کیس میں اب تک کئی اہم گرفتاریاں کی ہیں:جن میں مرکزی ملزم عمران خان، جس پر 25 ہزار روپے کا انعام تھا، اسے دہلی ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا۔
دیگر ملزمان میں محمد شیخ علی عالم، فیصل خان، ظہیر، شاداب، اور جی آر پی کانسٹیبل ارشاد سمیت فرید احمد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
تبدیلیِ مذہب کے لیے اکسانے کے الزام میں مولوی خلیل الرحمن کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔عمران خان کے بھائی اشفاق عرف لکی علی اور کزن ساحل کو بھی 14 مارچ کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
عدالتی کاروائی اور پولیس کا بیان:
پولیس کے مطابق تمام گرفتار ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں ڈسٹرکٹ جج اور متعلقہ عدالتوں سے مسترد ہو چکی ہیں۔ دیہات کوتوالی پولیس نے 18 اپریل کو 6000 صفحات کی چارج شیٹ عدالت میں پیش کی۔
ایس پی (SP) اپرنا رجت کوشک نے اس بارے میں بتایا:تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں اور تمام شواہد کو چارج شیٹ کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ ملزمان کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے اور اب مجسٹریٹ کورٹ میں گواہوں کے بیانات درج کروانے کی قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔