عصمت دری کے مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے سابق رکن پارلیمنٹ پراجول ریوانا کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ بنگلورو سینٹرل جیل میں کرائم برانچ (CCB) کی جانب سے کی گئی اچانک کارروائی کے دوران ریوانا کے پاس سے ایک موبائل فون برآمد ہونے کے بعد نیا معاملہ سامنے آیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ چھاپے کے وقت وہ مبینہ طور پر موبائل فون استعمال کرتے ہوئے پائے گئے۔ موبائل فون کی برآمدگی کے بعد کرائم برانچ نے معاملہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ پولیس اب اس بات کا پتہ لگانے میں مصروف ہے کہ ہائی سکیورٹی جیل کے اندر موبائل فون کیسے پہنچا اور اسے پراجول ریوانا تک کس ذریعے سے پہنچایا گیا۔
جیل کی سکیورٹی پر اٹھے سوالات
اس واقعے نے بنگلورو سینٹرل جیل کے سکیورٹی انتظامات پر بھی کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ جیل میں قیدیوں کے لیے موبائل فون جیسے مواصلاتی آلات کا استعمال عام طور پر ممنوع ہوتا ہے۔ ایسے میں ایک سزا یافتہ قیدی کے پاس موبائل فون کی موجودگی نے جیل انتظامیہ کی نگرانی اور تلاشی کے نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ پولیس اس پہلو سے بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا موبائل فون کسی بیرونی شخص کے ذریعے جیل کے اندر پہنچایا گیا یا جیل کے کسی اہلکار نے اس سلسلے میں مبینہ طور پر مدد کی۔ تفتیش کے دوران جیل میں ہونے والی ملاقاتوں، قیدیوں تک رسائی رکھنے والے افراد اور سکیورٹی کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
فون کس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا؟
تحقیقات میں یہ بھی اہم ہوگا کہ پراجول ریوانا موبائل فون کا استعمال کس مقصد کے لیے کر رہے تھے۔ پولیس اس بات کی جانچ کر سکتی ہے کہ فون سے کسی کو کال کی گئی یا پیغامات بھیجے گئے یا نہیں۔ فون میں موجود ڈیٹا اور رابطوں کی جانچ سے بھی تفتیش کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پراجول ریوانا پہلے ہی ایک سنگین مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ اب جیل کے اندر مبینہ طور پر ممنوعہ موبائل فون رکھنے اور استعمال کرنے کا معاملہ ان کے لیے ایک نئی قانونی پیچیدگی پیدا کرسکتا ہے۔
جیل انتظامیہ سے بھی جواب طلبی کا امکان
موبائل فون کی برآمدگی کے بعد جیل انتظامیہ کے کردار پر بھی اٹھ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سخت سکیورٹی اور نگرانی کے باوجود ممنوعہ آلہ جیل کے اندر کیسے پہنچا اور اتنے عرصے تک اس کا پتہ کیوں نہیں چل سکا۔ فی الحال کرائم برانچ کی تحقیقات جاری ہیں۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ موبائل فون جیل میں کیسے پہنچا، اسے کس نے فراہم کیا اور پراجول ریوانا اسے کس مقصد کے لیے استعمال کر رہے تھے۔