• News
  • »
  • قومی
  • »
  • انیس سو سینتالیس کی تقسیم کا درد پھر تازہ، مودی اور دیگر نے متاثرین کو کیا یاد

انیس سو سینتالیس کی تقسیم کا درد پھر تازہ، مودی اور دیگر نے متاثرین کو کیا یاد

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 14, 2026 IST

انیس سو سینتالیس کی تقسیم کا درد پھر تازہ، مودی اور دیگر نے متاثرین کو کیا یاد
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو تقسیم ہند کے متاثرین کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ 1947 میں ملک کی تقسیم کے دوران لاکھوں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کئی خاندان بچھڑ گئے اور بہت سے لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے۔ وزیر اعظم نے یہ بات تقسیم کی ہولناکیوں کی یاد کے موقع پر کہی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن ہندوستان کی تاریخ کے ایک انتہائی تکلیف دہ دور کی یاد دلاتا ہے۔

مودی نے تقسیم کے متاثرین کو یاد کیا

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا کہ تقسیم کے دوران بہت سے لوگوں نے اپنے گھر، خاندان اور عزیز و اقارب کھو دیے۔ انہیں اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل وقت کے باوجود تقسیم سے بچ جانے والے بہت سے لوگوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی زندگی دوبارہ بنائی۔ ان لوگوں نے بعد میں ملک کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ مودی نے کہا کہ ان لوگوں کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان بڑی سے بڑی مشکل کے بعد بھی دوبارہ کھڑا ہو سکتا ہے۔

ملک میں اتحاد اور بھائی چارے کی اپیل

وزیر اعظم نے کہا کہ تقسیم کی یاد ہمیں ملک میں اتحاد اور بھائی چارہ مضبوط کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ سب مل کر ملک کی ترقی کے لیے کام کریں اور ایک مضبوط اور خوشحال ہندوستان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

جے شنکر نے بھی متاثرین کو خراج عقیدت پیش کیا

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی تقسیم ہند کے متاثرین کو یاد کیا اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔  انہوں نے کہا کہ تقسیم کے دوران لوگوں کو بہت زیادہ انسانی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے اثرات صرف اس وقت تک محدود نہیں رہے بلکہ بعد کے کئی سالوں تک لوگوں کی زندگیوں پر بھی پڑے۔ جے شنکر نے ان لوگوں کی ہمت اور حوصلے کو سراہا جنہوں نے اس مشکل وقت کے بعد اپنی زندگی دوبارہ شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تاریخ کے اس تکلیف دہ دور سے سبق سیکھنا چاہیے اور ان لوگوں کی قربانیوں اور مشکلات کو نہیں بھولنا چاہیے۔

14 اگست کو منایا جاتا ہے یادگار دن

ہندوستان میں ہر سال14 اگست کو تقسیم کی  یاد کا دن منایا جاتا ہے۔ اس دن 1947 میں ہندوستان کی تقسیم کے دوران جان گنوانے والے اور اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہونے والے لوگوں کو یاد کیا جاتا ہے۔ 1947 میں برطانوی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی ہندوستان آزاد ہوا، لیکن آزادی کے ساتھ ملک کی تقسیم بھی ہوئی۔ ہندوستان اور پاکستان دو الگ ملک بن گئے۔

امیت شاہ نے بھی تقسیم کے متاثرین کو یاد کیا

مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی تقسیم کی ہولناکیوں کے یادگاری دن پر1947 کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم کے دوران لاکھوں لوگوں کو شدید تکلیف برداشت کرنی پڑی اور کروڑوں افراد کو اپنے گھر، جائیداد اور عزیزوں کو چھوڑ کر دوسری جگہ منتقل ہونا پڑا۔ شاہ نے کہا کہ تقسیم کے زخم آج بھی فراموش نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس دن کو منانے کا مقصد نئی نسل کو تقسیم کے سانحے کی یاد دلانا ہے تاکہ ملک کو دوبارہ تقسیم کرنے والی سوچ کامیاب نہ ہو اور ایک مضبوط اور متحد ہندوستان کا مقصد آگے بڑھایا جا سکے۔

راج ناتھ سنگھ نے بھی دیا اتحاد کا پیغام

 وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ تقسیم نے لاکھوں خاندانوں کی زندگیوں میں غم، بے گھری اور غیر یقینی پیدا کردی تھی۔ انہوں نے ان لوگوں کی ہمت اور قربانی کو یاد کیا جنہوں نے اپنے گھر، خاندان اور جائیداد کھونے کے باوجود اپنی زندگی دوبارہ شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم کی تکلیف دہ تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے اور ایسا مضبوط، پُرامن اور ہمدرد ہندوستان بنانا چاہیے جہاں اس طرح کا سانحہ دوبارہ نہ ہو۔

یوگی آدتیہ ناتھ کا بھی بیان

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی تقسیم کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ 1947 کی تقسیم صرف ملک کی سرحدوں کی تقسیم نہیں تھی بلکہ اس سے بے شمار خاندانوں کے رشتے، خواب اور جذبات بھی متاثر ہوئے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ تقسیم کے درد کو یاد رکھتے ہوئے ملک کی اتحاد اور سالمیت کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے۔

تقسیم کے دوران لاکھوں لوگوں نے گھر چھوڑے

تقسیم کے نتیجے میں بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا پڑا۔ اندازوں کے مطابق تقریباً 2 کروڑ افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے۔ بہت سے خاندان اپنے آبائی گھر چھوڑ کر نئی جگہوں پر جانے پر مجبور ہوئے۔ اس دوران بڑے پیمانے پر تشدد بھی ہوا، جس میں بہت سے لوگوں کی جانیں گئیں اور خاندان ایک دوسرے سے بچھڑ گئے۔ تقسیم کا یہ واقعہ آج بھی برصغیر کی تاریخ کے سب سے تکلیف دہ واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ مودی اور جے شنکر نے اس موقع پر متاثرین کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حوصلے اور جدوجہد کو یاد رکھنا ضروری ہے، جبکہ ملک میں امن، اتحاد اور بھائی چارے کو مضبوط کرنا بھی اہم ہے۔