Wednesday, July 15, 2026 | 28 محرم 1448
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • بیٹے کی حوصلہ افزائی، ماں کی کامیابی، آئی آئی ٹی میں انوکھا منظر

بیٹے کی حوصلہ افزائی، ماں کی کامیابی، آئی آئی ٹی میں انوکھا منظر

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jul 14, 2026 IST

بیٹے کی حوصلہ افزائی، ماں کی کامیابی، آئی آئی ٹی میں انوکھا منظر
 
آئی آئی ٹی مدراس کے کانووکیشن(Convocation) میں ایک یادگار منظر دیکھنے کو ملا، جب 45 سالہ ماں جگیشہ ٹیلر اور ان کے 21 سالہ بیٹے آدتیہ کپاڈیہ نے ایک ہی دن، ایک ہی اسٹیج پر اپنی ڈگری حاصل کی۔ دونوں نے آئی آئی ٹی مدراس کے آن لائن ڈیٹا سائنس پروگرام کو کامیابی سے مکمل کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے کبھی یہ منصوبہ نہیں بنایا تھا کہ دونوں ایک ساتھ گریجویشن کریں گے۔
 

ماں نے بیٹے کی حوصلہ افزائی پر دوبارہ تعلیم شروع کی

جگیشہ ٹیلر نے تقریباً 16 سال تک گجرات کے ایک انجینئرنگ کالج میں الیکٹرانکس کی ٹیچر کے طور پر کام کیا۔ سال 2019 میں فیملی ذمہ داریوں کی وجہ سے انہوں نے ملازمت چھوڑ دی۔بعد میں 2022 میں اپنے بیٹے آدتیہ کی حوصلہ افزائی پر انہوں نے آئی آئی ٹی مدراس کے آن لائن ڈیٹا سائنس پروگرام میں داخلہ لیا۔ 
 

آدتیہ کپاڈیہ نے 2021 میں اسکول مکمل کرنے کے بعد اس کورس میں داخلہ لیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت کووڈ-19 کی وجہ سے زیادہ تر اعلیٰ تعلیمی اداروں کی کلاسیں آن لائن ہو رہی تھی، اس لیے انہوں نے آئی آئی ٹی مدراس کا آن لائن پروگرام منتخب کیا۔ ان کے مطابق انہیں ڈیٹا سائنس اور مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) میں خاص دلچسپی تھی۔
 

صبح سویرے پڑھائی، ساتھ میں گھر کی ذمہ داریاں

جگیشہ روزانہ صبح ساڑھے چار بجے اٹھتی تھی تاکہ گھر کے کاموں کے ساتھ اپنی پڑھائی بھی جاری رکھ سکیں۔انہوں نے بتایا کہ کئی رشتہ دار ان سے پوچھتے تھے کہ اس عمر میں دوبارہ پڑھنے اور نوکری کرنے کی کیا ضرورت ہے، لیکن وہ ہمیشہ یہی جواب دیتی تھی کہ وہ زندگی میں کچھ نیا کرنا چاہتی ہیں۔
 

ماں اور بیٹے کے درمیان دوستانہ مقابلہ

پڑھائی کے دوران ماں اور بیٹے کے درمیان دوستانہ مقابلہ بھی تھا۔ دونوں یہ دیکھنے کی کوشش کرتے تھے کہ امتحان میں زیادہ اچھے نمبر یا بہتر گریڈ کون حاصل کرتا ہے۔
 

کانووکیشن میں یادگار لمحہ

دونوں کو یہ امید نہیں تھی کہ انہیں ایک ہی وقت میں اسٹیج پرمدعو کیا جائے گا ، جس کے بعد ماں اور بیٹا ایک ساتھ اسٹیج پر گئے اور اپنی ڈگریاں حاصل کیں۔ یہ لمحہ نہ صرف ان دونوں بلکہ پورے خاندان کے لیے ہمیشہ یادگار بن گیا۔