Monday, August 17, 2026 | 02 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • نلسارتنازع میں نیا موڑ، طلبہ کے احتجاج پربی سی آئی کا سخت ایکشن،سی جے آئی نے بھی ظاہرکی ناراضگی

نلسارتنازع میں نیا موڑ، طلبہ کے احتجاج پربی سی آئی کا سخت ایکشن،سی جے آئی نے بھی ظاہرکی ناراضگی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 16, 2026 IST

نلسارتنازع میں نیا موڑ، طلبہ کے احتجاج پربی سی آئی کا سخت ایکشن،سی جے آئی نے بھی ظاہرکی ناراضگی
بار کونسل آف انڈیا "BCI" کے چیئرمین منن کمار مشرا نے NALSAR یونیورسٹی آف لا کے طلبہ سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کے طلبہ ہمیشہ اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ یہ بیان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی جانب سے BCI کے سابقہ فیصلے پر ناراضگی ظاہر کرنے کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔ تنازع اس وقت شروع ہوا جب "BCI" نے حیدرآباد کی NALSAR یونیورسٹی کے 2026 بیچ کے گریجویٹس کے ریاستی بار کونسلوں میں اندراج پر پابندی عائد کر دی تھی۔ یہ فیصلہ یونیورسٹی کے کانووکیشن سے متعلق ایک مبینہ احتجاج اور اس میں طلبہ کے کردار کے معاملے کے بعد کیا گیا تھا۔
 
چیف جسٹس سوریہ کانت نے "BCI" کے فیصلے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کو قانونی دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج اور اپنی رائے کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے اور "BCI" کو اس معاملے میں غیر ضروری مداخلت نہیں کرنی چاہیے تھی۔ چیف جسٹس نے یہ بھی کہا تھا کہ NALSAR کے طلبہ نے انہیں خط لکھا ہے اور یہ معاملہ ان کے اور طلبہ کے درمیان ہے۔ انہوں نے اپنے طالب علمی کے زمانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر طلبہ قانونی طریقے سے اپنی آواز اٹھا رہے ہوں تو انہیں ایسا کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
 

"BCI" نے پابندی واپس لے لی

چیف جسٹس کی ناراضگی کے بعد "BCI" نے اپنے پہلے فیصلے پر دوبارہ غور کیا اور NALSAR کے 2026 گریجویٹس کے اندراج پرعائد پابندی ختم کر دی۔جمعرات کو جاری کیے گئے تازہ ہدایت میں "BCI" نے واضح کیا کہ NALSAR کے تمام 2026 گریجویٹس اپنی پسند کی ریاستی بار کونسل میں اندراج کرا سکتے ہیں۔ انہیں جاری انکوائری مکمل ہونے تک انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ "BCI" نے فیصلے پر غور کے دوران ایک رپورٹ کا بھی جائزہ لیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ NALSAR کے زیادہ ترگریجویٹس نہ تو مبینہ اقدام میں شامل تھے اور نہ ہی ان میں سے بیشتر کا کسی ایسے عمل میں حصہ لینے کا ارادہ تھا جسے کسی ادارے کی توہین سمجھا جا سکے۔
 

"BCI" چیئرمین کی طلبہ سے معذرت

BCI چیئرمین منن کمار مشرا نے اپنے تازہ بیان میں طلبہ سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے طلبہ کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی آزادی حاصل ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اختلاف رائے کو جمہوری اور قانونی طریقے سے ظاہر کرنا طلبہ کا حق ہے۔ ان کے اس بیان کو NALSAR کے طلبہ کے لیے ایک اہم وضاحت قرار دیا جا رہا ہے۔ منن کمار مشرا نے معافی صرف NALSAR کے طلبہ سے مخصوص انداز میں نہیں بلکہ ملک بھر کے قانون کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے مانگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر تنازع سے متعلق ان کے کسی لفظ یا خط سے طلبہ کے جذبات مجروح ہوئے تو وہ اس پر خلوصِ دل سے معذرت کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ معافی مانگنا انا یا وقار کا مسئلہ نہیں ہے۔ 
 

پہلے ہدایت میں کیا کہا گیا تھا؟

"BCI" نے 13 اگست کو ریاستی بار کونسلوں کو ہدایت دی تھی کہ NALSAR یونیورسٹی آف لا کے 2026 گریجویٹس کا اندراج نہ کیا جائے۔ اس فیصلے پر شدید اعتراضات سامنے آنے کے بعد اسے واپس لے لیا گیا۔ سپریم کورٹ میں بھی اس معاملے پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے "BCI" کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے معاملے پر جواب طلب کیا تھا۔ بنچ میں جسٹس جوئے مالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا بھی شامل تھے۔ اب NALSAR کے 2026 گریجویٹس کے لیے صورتحال واضح ہو گئی ہے۔ وہ اپنی پسند کی ریاستی بار کونسل میں اندراج کے لیے درخواست دے سکتے ہیں اور "BCI" کی سابقہ پابندی ان کے پیشہ ورانہ مستقبل میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔
 
ایک اہم تازہ پیش رفت یہ ہے کہ "BCI" نے 14 اگست کو NALSAR کے 2026 بیچ کے خلاف جاری کاروائی مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یعنی معاملہ صرف انرولمنٹ کی پابندی واپس لینے تک محدود نہیں رہا بلکہ طلبہ کے خلاف مزید کاروائی بھی بند کر دی گئی۔
 
"NLSIU" بنگلورو کے طلبہ اور سابق طلبہ بھی اس معاملے میں سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے "BCI" سے غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا اور "BCI" چیئرمین کی اپنی یونیورسٹی کی کانووکیشن تقریب میں شرکت پر بھی اعتراض کیا۔ تازہ بیان پر 128 سابق طلبہ، 165 گریجویٹنگ طلبہ اور 409 موجودہ طلبہ کے دستخط ہونے کی اطلاع ہے۔