مہاراشٹر کے شہر ناسک میں واقع ٹی سی ایس (TCS) کمپنی میں مبینہ تبدیلیِ مذہب اور جنسی ہراسانی کا معاملہ ان دنوں سرخیوں میں ہے۔ پولیس اور تحقیقاتی ایجنسیوں کی جانب سے مسلسل چھاپہ ماری جاری ہے۔اسی دوران 42 دنوں کے بعد، اس کیس کی اہم ملزمہ ندا خان کو بلاآخر گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سنبھاجی نگر سے ہوئی گرفتاری:
میڈیا رپورٹس کے مطابق، ناسک سٹی پولیس نے جمعرات (7 مئی) کی دیر رات مہاراشٹر کے شہر سنبھاجی نگر سے ندا خان کو حراست میں لیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ جب سے مبینہ تبدیلیِ مذہب اور ہراسانی کا معاملہ منظرِ عام پر آیا تھا، ندا خان فرار ہو گئی تھی۔ پولیس اس گرفتاری کو کیس کی کڑیوں کو جوڑنے کے لیے انتہائی اہم قرار دے رہی ہے۔
پولیس حکام کی تصدیق:
ناسک کے پولیس کمشنر سندیپ کرنک اور کرائم برانچ کے اسسٹنٹ پولیس کمشنر سندیپ مٹکے نے ندا خان کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ پولیس کمشنر کے مطابق:ناسک پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) اور سنبھاجی نگر پولیس نے ایک مشترکہ آپریشن کے تحت ندا خان کو گرفتار کیا۔ اسے ناسک لایا جا رہا ہے جہاں آج (8 مئی) مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
ندا خان کے خلاف 26 مارچ کو ٹی سی ایس کی خاتون ملازمین کے استحصال، زبردستی تبدیلیِ مذہب کی کوشش، مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور ذہنی اذیت دینے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مقدمہ درج ہونے کے بعد سے ندا فرار تھی۔ پولیس نے اس کی تلاش میں ممبئی اور گرد و نواح میں کئی مقامات پر چھاپے مارے اور اس کے شوہر سے بھی پوچھ گچھ کی تھی۔
اس کیس میں اب تک 7 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا تھا۔ ندا خان آٹھویں ملزمہ ہے جو مسلسل فرار چل رہی تھی۔
کال سینٹر سے وابستہ الزامات:
یہ پورا تنازع ناسک کے ایک کال سینٹر سے شروع ہوا تھا جہاں کام کرنے والے 9 ملازمین نے اپنے 8 ساتھیوں پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ ان الزامات میں جنسی استحصال اور مذہبی بنیادوں پر دباؤ ڈالنا شامل تھا۔ ندا خان اسی ادارے میں بطور ملازمہ کام کرتی تھی جسے اب معطل کیا جا چکا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ندا خان کی گرفتاری کے بعد اب پوچھ گچھ کے ذریعے اس پورے نیٹ ورک اور واقعے کے پیچھے چھپے حقائق کو بے نقاب کرنے میں مدد ملے گی۔