Wednesday, April 15, 2026 | 26 شوال 1447
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • برین اسٹروک کو روکنے کیا ہیں اہم تدابیر: نیورولوجسٹ نےکیوں کیا خبردار

برین اسٹروک کو روکنے کیا ہیں اہم تدابیر: نیورولوجسٹ نےکیوں کیا خبردار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Apr 14, 2026 IST

برین اسٹروک کو روکنے کیا ہیں اہم تدابیر: نیورولوجسٹ نےکیوں کیا خبردار
برین اسٹروک ایک خطرناک اور ایمرجنسی طبی حالت ہے جس میں دماغ کو خون کی فراہمی اچانک بند ہو جاتی ہے یا خون کی نالی پھٹ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں دماغ کا ایک حصہ متاثر ہو کر جسم کے مختلف اعضا پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس حوالے سے میڈی کاورہاسپٹل سکندرآباد، حیدرآباد کے چیف نیورولوجسٹ ڈاکٹر وکاس اگروال نے منصف ٹی  وی کے خاص پروگرام  ہیلتھ اور ہم میں تفصیلی گفتگو کی اور اس مرض کی علامات، اقسام، وجوہات اور بچاؤ کے طریقوں پر روشنی ڈالی۔

برین اسٹروک کےاقسام اورعلامات 

ڈاکٹر وکاس اگروال کے مطابق برین اسٹروک بنیادی طور پر دو اقسام کا ہوتا ہے۔ پہلا اسکیمک اسٹروک، جس میں خون کی نالی میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے اور دماغ کے مخصوص حصے تک خون نہیں پہنچ پاتا۔ دوسرا ہیمریجک اسٹروک ہے، جس میں بلڈ ویسل پھٹ جاتی ہے اور دماغ میں خون رسنے لگتا ہے۔ دونوں صورتوں میں مریض کو جسم کے ایک حصے میں کمزوری، بولنے میں مشکل، نظر کی خرابی یا شدید سر درد جیسی علامات ہو سکتی ہیں۔

مریض کو جلد اسپتال پہنچانا ضروری 

انہوں نے کہا کہ اس بیماری میں سب سے اہم چیز وقت ہے۔ اگر مریض کو ابتدائی چار سے ساڑھے چار گھنٹے کے اندر اسپتال پہنچا دیا جائے تو جدید علاج جیسے "کلاٹ بسٹنگ تھراپی" کے ذریعے مریض کی حالت بہتر کی جا سکتی ہے۔ تاہم دیر ہونے کی صورت میں علاج کے امکانات کم ہو جاتے ہیں اور پیچیدگیاں بڑھ سکتی ہیں۔

برین اسڑوک کی بڑی وجوہات

ڈاکٹر کے مطابق برین اسٹروک کی بڑی وجوہات میں ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، ہائی کولیسٹرول، تمباکو نوشی، غیر صحت مند خوراک اور غیر فعال طرزِ زندگی شامل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلڈ پریشر کا مسلسل بڑھا رہنا دماغی شریانوں کو کمزور کر کے ہیمریجک اسٹروک کا باعث بن سکتا ہے، جو اکثر اچانک اور بغیر کسی واضح علامت کے بھی ہو سکتا ہے۔

"منی اسٹروک" یا ٹرانزینٹ اسکیمک اٹیک

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بعض اوقات مریض کو "منی اسٹروک" یا ٹرانزینٹ اسکیمک اٹیک (TIA) ہوتا ہے، جس میں علامات کچھ دیر کے لیے ظاہر ہو کر خود بخود ختم ہو جاتی ہیں۔ یہ دراصل ایک وارننگ سائن ہوتا ہے، جسے نظر انداز کرنا مستقبل میں بڑے اسٹروک کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔

برین اسٹروک سے بچاؤ کیسے ہو

ڈاکٹر وکاس اگروال نے کہا کہ برین اسٹروک سے بچاؤ کے لیے طرزِ زندگی میں تبدیلی انتہائی ضروری ہے۔ روزانہ کم از کم 7000 قدم چلنا، صحت مند خوراک جیسے سبزیاں اور پھل استعمال کرنا، نمک اور چکنائی کم کرنا، اور تمباکو و الکحل سے مکمل پرہیز کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول کی باقاعدہ جانچ بھی بہت اہم ہے۔

ہمیشہ دوبارہ اسٹروک کا خطرہ!

انہوں نے زور دیا کہ جو افراد پہلے اسٹروک کا شکار ہو چکے ہوں انہیں ادویات کبھی خود سے بند نہیں کرنی چاہئیں، کیونکہ دوبارہ اسٹروک کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ ڈاکٹر کے مطابق "احتیاط علاج سے بہتر ہے" اور اگر بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں تو اس خطرناک بیماری سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر وکاس اگروال کی مکمل بات چیت  کا ویڈیو آپ یہاں دیکھ سکتےہیں۔