• News
  • »
  • صحت
  • »
  • سانس کی دائمی بیماریوں کا خطرہ کب بڑھ جاتا ہے۔ کیاکہتےہیں ماہرین

سانس کی دائمی بیماریوں کا خطرہ کب بڑھ جاتا ہے۔ کیاکہتےہیں ماہرین

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Apr 03, 2026 IST

سانس کی دائمی بیماریوں کا خطرہ کب بڑھ جاتا ہے۔ کیاکہتےہیں ماہرین
 منصف ٹی وی کے صحت سے متعلق خاص پروگرام ،ہیلتھ اورہم، میں ماہرِ امراضِ سینہ ڈاکٹرمحمد مکرم علی نے پیشہ ورانہ ماحول میں پھیپھڑوں کی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے خطرات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ دور میں فضائی آلودگی، دھول، دھواں اور مضر گیسیں انسانی صحت، خصوصاً نظامِ تنفس پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہیں۔

 سانس کی بیماریوں کےامکانا ت کب زیادہ ہوتے ہیں؟ 

ڈاکٹر محمد مکرم علی کے مطابق ایسے افراد جو اپنے پیشے کے باعث مسلسل آلودگی کے رابطے میں رہتے ہیں، ان میں “کرانک ریسپائریٹری ڈیزیزز” یعنی طویل المدتی سانس کی بیماریاں پیدا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ٹریفک پولیس، ڈرائیورز، ڈیلیوری بوائز، کارپینٹرز، پینٹرز، کوئلہ کانوں کے مزدور اور فیکٹری ورکرز خاص طور پر اس خطرے سے دوچار ہیں۔

 کبوترپالن بھی ہوسکتا ہے خطرناک 

پروگرام میں کبوتر پالنے کے بڑھتے رجحان پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ڈاکٹرمکرم علی نے بتایا کہ کبوتروں کے پروں اور فضلے میں موجود اینٹی جنز سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر “ہائپر سنسٹیویٹی نمونائٹس” جیسی بیماری کا سبب بن سکتے ہیں، جس سے پھیپھڑوں میں سوزش اور بعد ازاں فائبروسس (سختی) پیدا ہو جاتی ہے۔

پھیپھڑوں کی بیماریوں کےعلامات 

علامات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ مسلسل خشک کھانسی، سانس پھولنا، تھکاوٹ اور وقت کے ساتھ سانس لینے میں دشواری اس بیماری کی اہم نشانیاں ہیں۔ ابتدا میں یہ علامات ہلکی ہوتی ہیں، لیکن اگر بروقت توجہ نہ دی جائے تو مریض کو مستقل آکسیجن کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔

سانس کی بیماریاں اور کینسر کا خطرہ 

کارپینٹرز میں لکڑی کی باریک دھول، پینٹرز میں کیمیکل والی بو اور مائن ورکرز میں زہریلی گیسیں پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہیں۔ اسی طرح پلاسٹک اور کیمیکل فیکٹریوں میں کام کرنے والے افراد میں بھی سانس کی بیماریوں اور حتیٰ کہ کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ماسک کا استعمال انتہائی ضروری 

ڈاکٹر نے اس بات پر زور دیا کہ ماسک کا استعمال انتہائی ضروری ہے۔ خاص طور پر تھری پلائی ماسک 80 سے 90 فیصد تک تحفظ فراہم کر سکتا ہے، جبکہ این 95 ماسک زیادہ خطرناک وائرسز سے بچاؤ میں مددگار ہوتا ہے۔ تاہم صرف ماسک کافی نہیں، بلکہ باقاعدہ میڈیکل چیک اپ بھی ضروری ہے۔انہوں نے مشورہ دیا کہ ایسے افراد جو طویل عرصے سے ان پیشوں سے وابستہ ہیں، وہ ہر چند سال بعد چیسٹ ایکس رے اور پلمونری فنکشن ٹیسٹ ضرور کروائیں تاکہ بیماری کی بروقت تشخیص ممکن ہو سکے۔

 بیماریوں کےکیسے بچاؤ ممکن ہے

پروگرام کے اختتام پر یہ پیغام دیا گیا کہ احتیاط، بروقت تشخیص اور مناسب علاج کے ذریعے ان بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے۔ پیشہ ورانہ خطرات کو نظر انداز نہ کریں اور اپنی صحت کو ترجیح دیں تاکہ ایک بہتر اور صحت مند زندگی گزار سکیں۔ قارئین آپ  انٹر ویو پرمبنی  ویڈیو یہاں دیکھ سکتے ہیں۔