Wednesday, April 15, 2026 | 26 شوال 1447
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • جنگل راج کوکسی صورت میں برداشت نہیں کیا جائےگا:عمرعبد اللہ

جنگل راج کوکسی صورت میں برداشت نہیں کیا جائےگا:عمرعبد اللہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Apr 14, 2026 IST

 جنگل راج کوکسی صورت میں برداشت نہیں کیا جائےگا:عمرعبد اللہ
جموں و کشمیر کے ضلع رام بن میں ایک نوجوان کی مبینہ طور پر گائے کے نام پر نگرانی کرنے والے افراد ( cow vigilantesکوو ویجیلینٹس) کے تعاقب کے بعد ندی میں چھلانگ لگانے کے واقعے نے ریاست بھر میں شدید ردعمل پیدا کر دیا ہے۔ اس واقعے پر وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے سخت رد ظاہر کرتے  ہوئے کہا ہے کہ "جنگل راج" کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

افسوسناک اور قابل مذمت 

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ضلع اننت ناگ کے علاقے بیج بہاڑہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رام بن میں پیش آنے والا واقعہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ ان کے مطابق ایک بے گناہ شخص کی موت ہوئی ہے اور ایسے عناصر جو مذہب کے نام پر امن و امان کو خراب کرنا چاہتے ہیں، انہیں کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔

 لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا سے مطالبہ 

وزیراعلیٰ نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کی جائے تاکہ معاشرے میں واضح پیغام جائے کہ ریاست میں قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ خود کو قانون سے بالاتر سمجھ کر "گنڈا گردی" کرتے ہیں، وہ دراصل خطے میں "جنگل راج" قائم کرنا چاہتے ہیں، جسے حکومت ہرگز قبول نہیں کرے گی۔

 گائے لے جانے پر کیا گیا حملہ 

اطلاعات کے مطابق 25 سالہ تنویر احمد چپان، جو رام بن کے منڈکھل پوگل علاقے کا رہائشی تھا، جموں سے اپنی آبائی بستی کی طرف ایک گائے اور دو بچھڑوں کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔ اسی دوران رامسو علاقے میں مبینہ طور پر کچھ افراد نے، جنہیں گائے کی نگرانی کرنے والے عناصر بتایا جا رہا ہے، اس کا پیچھا کیا اور مبینہ طور پر اسے ہراساں کیا۔

 خوف کے عالم میں جوان کا انتہائی اقدام 

خوف کے باعث نوجوان نے سڑک کے قریب ایک ندی میں چھلانگ لگا دی، جس کے بعد وہ لاپتہ ہو گیا۔ واقعے کے بعد سے نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف)، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف)، پولیس اور مقامی رضاکاروں کی مدد سے سرچ آپریشن جاری ہے، تاہم اب تک اس کی لاش برآمد نہیں ہو سکی۔

احتجاج اور پولیس کاروائی

واقعے کے بعد مقامی افراد نے سری نگر–جموں قومی شاہراہ پر رامسو کے مقام پر شدید احتجاج کیا اور کچھ دیر کے لیے ٹریفک بلاک کر دی۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کر کے سخت سزا دی جائے۔
ایف آئی آر درج 
ایس ایس پی رام بن ارون گپتا کے مطابق پولیس نے ابتدائی گواہوں کے بیان کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کر لی ہے اور ایس ڈی پی او بانہال کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے۔ اب تک چار افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن کی شناخت دیگ وجے سنگھ، کیول سنگھ، سری جیت سنگھ اور سندیپ سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔

گاؤ رکھشک کے نام پرغنڈہ گردی!

جموں و کشمیر سمیت بھارت کے کئی علاقوں میں گزشتہ برسوں کے دوران "گائے کے تحفظ" کے نام پر سرگرم گروہوں کے خلاف متعدد الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ بعض عناصر قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر تشدد اور ہراسانی کے واقعات میں ملوث ہوتے ہیں، جس سے سماجی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔

 سخت اور موثر کاروائی کی مانگ 

حالیہ واقعہ اسی تناظر میں ایک بار پھر اس بحث کو سامنے لے آیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسے گروہوں کے خلاف کس حد تک مؤثر کارروائی کرنی چاہیے تاکہ آئندہ ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کے بیان کے بعد یہ معاملہ مزید سیاسی اور سماجی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جبکہ عوامی سطح پر انصاف اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔