انڈونیشیا کے دورے کے بعدوزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں آسٹریلیا کےوزیر اعظم انتھونی البانیز (Anthony Albanese) سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات انڈونیشیا کے دورے کے بعد ہوئی، جبکہ اس دورے کا آخری مرحلہ نیوزی لینڈ میں ہوگا۔
بدھ کو آسٹریلیا پہنچنے پرآسٹریلیا میں مقیم بھارتیوں نے وزیر اعظم مودی کا پُرجوش استقبال کیا۔ اس موقع پر ثقافتی پروگرام بھی پیش کیے گئے، جن میں دونوں ممالک کی مشترکہ ثقافت اور دوستی کو اْجاگر کیا گیا۔
تجارت اور باہمی تعاون پر گفتگو
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اس وقت دنیا کو کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں سامان کی ترسیل میں رکاوٹ، توانائی کا بحران اور غیر یقینی حالات شامل ہیں۔ ایسے حالات میں بھارت اورآسٹریلیا جیسے قابلِ اعتماد شراکت داروں (Partners)کا ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا بہت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں دونوں ممالک نے مستقبل کی شراکت داری کے لیے مضبوط بنیاد رکھی ہے۔2022 میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدے کے بعد بھارت سے آسٹریلیا کو سامان کی برآمد تقریباً دوگنی ہو گئی ہے۔ جس کے بعد دونوں ممالک کے تاجروں کے لیے نئے بازاروں میں کاروبار کرنا آسان ہو گیا۔
کن اہم شعبوں پر بات ہوئی؟
دونوں رہنماؤں کے درمیان دفاع، سلامتی، تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، عوامی روابط اور دونوں ملکوں کے درمیان لوگوں کی آمدورفت بڑھانے جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ وزیراعظم مودی نے روانگی سے پہلے کہا تھا کہ آسٹریلیا کا یہ دورہ ابھرتی ہوئی جدید ٹیکنالوجی، کھیلوں اور اسپورٹس سائنس کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا بہترین موقع ہے۔
یورینیم برآمدی معاہدے پرپیش رفت
آسٹریلین فنانشل ریویو کی رپورٹ کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان بھارت کو یورینیم برآمد کرنے کے معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔
2014میں دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ ہواتھا، لیکن آسٹریلیا نے یورینیم کی فراہمی اسی شرط پر رکھی کہ اسے صرف بجلی پیدا کرنے اور دوسرے پُرامن مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، ہتھیار بنانے کے لیے استمال نہیں ہوگا۔
بھارت اور آسٹریلیا کے تعلقات
چین، جاپان، امریکہ اور جنوبی کوریا کے بعد بھارت آسٹریلیا کا پانچواں بڑا تجارتی شراکت دار(Partner) ہے۔ اس کے علاوہ آسٹریلیا میں تقریباً 10 لاکھ بھارتی باشندے ہیں، جو دونوں ممالک کے مضبوط عوامی تعلقات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
وزیر اعظم مودی میلبورن کے سب سے بڑے اسپورٹس اسٹیڈیم میں ہزاروں بھارتیوں سے بھی ملاقات کریں گے۔ آسٹریلیا میڈیا کے مطابق ممکنہ احتجاج کے خدشے کے پیش نظر اسٹیڈیم کے اطراف سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
ثقافتی پروگراموں نے توجہ حاصل کی
استقبالیہ تقریب میں آسٹریلیا-انڈیا آرکسٹرا (Orchestra) نے "ماں تجھے سلام" پیش کیا، جسے وزیر اعظم مودی نے دونوں ملکوں کے ثقافتی رشتوں کی خوبصورت مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیشکش "وندے ماترم" کی عالمی مقبولیت کو بھی ظاہر کرتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اس کے 150 سال مکمل ہونے کی تقریبات منائی جا رہی ہیں۔
وزیر اعظم مودی نے ایک منفرد موسیقی پرفارمنس بھی دیکھی، جس میں آسٹریلیا کا قدیم ساز ڈیجیریڈو (Didgeridoo) اور بھارت کا طبلہ ایک ساتھ بجایا گیا۔ یہ پرفارمنس رون مرے (Ron Murray)اور ڈاکٹر سیم ایونز(Dr Sam Evans) نے پیش کی۔ مودی نے کہا کہ ان دونوں موسیقی کے آلات کی مشترکہ پیشکش بھارت اور آسٹریلیا کے مضبوط ثقافتی تعلقات کو ظاہر کرتی ہے
انڈونیشیا کے دورے کے بعد آسٹریلیا پہنچے
واضح رہےکہ وزیر اعظم مودی انڈونیشیا کے تین روزہ دورے کے بعد آسٹریلیا پہنچے، جہاں انہوں نے صدر پرابوو سوبیانتو(Prabowo Subianto) سے ملاقات کی۔ دونوں ممالک نے اہم معدنیات، سمندری سلامتی اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے 14 معاہدوں پر دستخط کیے۔
اس دورے کے دوران دونوں رہنماؤں نے یوگیکارتا میں واقع یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے پرمبنان( Prambanan )مندر کا بھی دورہ کیا اور اس کے تحفظ کے مشترکہ منصوبے کا افتتاح کیا۔ انڈونیشیا کے صدر نے وزیر اعظم مودی کو ہوائی اڈے پر خود رخصت بھی کیا، جسے دونوں ممالک کی مضبوط دوستی کی علامت قرار دیا گیا۔
آسٹریلیا کا دورہ مکمل کرنے کے بعد وزیر اعظم مودی اپنے تین ملکی دورے کے آخری مرحلے میں نیوزی لینڈ روانہ ہوں گے۔