NEET امتحان میں مبینہ بے قاعدگیوں کے معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو سخت موقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا ہے کہ طلباء کے مستقبل سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور امتحان میں گڑبڑ کرنے والے ہر شخص کے خلاف سخت قانونی کاروائی ہوگی۔ وزیر اعظم نے یہ بات NDA کی "منگل مشن" میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ میٹنگ میں NDA کے سینئر لیڈر اور مرکزی وزراء بھی موجود تھے۔
پی ایم مودی نے کیا کہا؟
پی ایم مودی نے میٹنگ میں لیڈروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح نوجوانوں اور طلباء کا مستقبل محفوظ بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی غلط کام کی وجہ سے لاکھوں طلباء کی محنت ضائع نہیں ہونے دی جائے گی۔ وزیر اعظم نے کہا، ہم طلباء کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ NEET کی بے قاعدگیوں کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ انہیں جیل بھیجا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت امتحانی نظام میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ طلباء کو انصاف ملے گا اور نظام پر سے ان کا اعتماد بحال کیا جائے گا
NEET تنازعہ کیا ہے؟
NEET UG امتحان کے بعد ملک کے کئی حصوں سے پیپر لیک، دھاندلی اور نقل کے الزامات سامنے آئے تھے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور کچھ ریاستوں میں گرفتاریوں کے بعد پورے ملک کے طلباء اور والدین میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔ طلباء کا کہنا تھا کہ بے قاعدگی کی وجہ سے محنتی طلباء کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ اسی معاملے کو لے کر دہلی کے جنتر منتر پر CJP یعنی کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین گزشتہ 20 جون سے احتجاج بھی جاری ہے۔ کارکن سونم وانچنگ اور AISA کے طلبہ بھی اس احتجاج میں شامل ہیں۔ مظاہرین مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
حکومت کا موقف اور اگلے اقدامات
پی ایم مودی کے اس بیان کو حکومت کی طرف سے طلباء کو دی گئی سب سے بڑی یقین دہانی سمجھا جا رہا ہے۔ حکومت نے پہلے ہی معاملے کی تحقیقات کے لیے CBI اور دیگر ایجنسیوں کو شامل کیا ہوا ہے۔ کئی ریاستوں میں پولیس نے پیپر لیک سے جڑے لوگوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔ NEET جیسے قومی سطح کے امتحان کی ساکھ برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔ اگر طلباء کا نظام پر سے اعتماد اٹھ گیا تو ملک کے میڈیکل نظام پر بھی اس کا اثر پڑے گا۔ پی ایم کے بیان کے بعد اب توقع کی جا رہی ہے کہ حکومت امتحانی نظام میں مزید اصلاحات لائے گی۔ اس میں امتحان کے مراکز پر سخت نگرانی، ٹیکنالوجی کا استعمال اور سخت قوانین شامل ہو سکتے ہیں۔
طلباء اور اپوزیشن کا ردعمل
پی ایم کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر طلباء کی طرف سے ملے جلے ردعمل آ رہے ہیں۔ کچھ طلباء نے کہا کہ اب عملی طور پر سخت کاروائی دیکھنے کے بعد ہی وہ مطمئن ہوں گے۔ دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں نے کہا ہے کہ صرف بیان کافی نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف جلد سے جلد چارج شیٹ دائر کرے اور متاثرہ طلباء کو ریلیف دے۔