وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ آسٹریلیا دورے کو بھارت میں بڑے پیمانے پر کوریج ملی۔ میلبورن میں ان کے استقبال، بھارتی برادری کے بڑے اجتماعات، نعروں اور عوامی شرکت کی تصاویر اور ویڈیوز مختلف ٹی وی چینلز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر نمایاں طور پر نشر کی گئیں۔
اسی دوران دورے کا ایک اور پہلو بھی سامنے آیا۔ بعض انسانی حقوق کی تنظیموں، سکھ گروپوں اور دیگر مظاہرین نے وزیر اعظم کے دورے کے خلاف احتجاج کیا۔ ان مظاہروں کی کوریج متعدد بین الاقوامی میڈیا اداروں نے بھی کی، جنہوں نے استقبال اور احتجاج دونوں پہلوؤں کو اپنی رپورٹس میں شامل کیا۔
یہ صورتحال ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے۔ اگر ایک ہی دورے کے دوران استقبال بھی ہوا اور احتجاج بھی، تو کیا صحافت کا تقاضا یہ نہیں کہ ناظرین کو دونوں پہلوؤں سے آگاہ کیا جائے؟ کیا عوام کو مکمل تصویر دیکھنے اور خود اپنی رائے قائم کرنے کا حق حاصل نہیں؟
یہ سوال کسی ایک میڈیا ادارے تک محدود نہیں، بلکہ مجموعی صحافتی معیار سے متعلق ہے۔ اگر کوئی ادارہ صرف مثبت پہلو نمایاں کرے یا صرف احتجاج پر توجہ دے اور دوسرے پہلو کو نظر انداز کر دے، تو اس کی کوریج کے توازن پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
صحافت کا بنیادی مقصد کسی حکومت یا اپوزیشن کی حمایت یا مخالفت نہیں، بلکہ حقائق کو درست، مکمل اور سیاق و سباق کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کرنا ہے۔ یہی وہ اصول ہے جو عوام کو باخبر فیصلے کرنے میں مدد دیتا ہے اور میڈیا پر اعتماد کو مضبوط بناتا ہے۔
یہ بحث صرف ایک دورے یا ایک حکومت تک محدود نہیں ہے، بلکہ میڈیا کے وسیع تر کردار سے متعلق ہے۔ جمہوری معاشرے میں میڈیا سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کامیابیاں بھی دکھائے، اختلافی آوازیں بھی سنے، عوامی حمایت بھی رپورٹ کرے اور احتجاج کو بھی مناسب تناظر میں پیش کرے۔
آخرکار، ایک مضبوط اور معتبر میڈیا وہی ہوتا ہے جو مختلف زاویوں کو متوازن انداز میں پیش کرے، تاکہ عوام کو مکمل معلومات میسر آئیں اور وہ کسی بھی معاملے پر اپنی آزادانہ رائے قائم کر سکیں۔ متوازن، ذمہ دار اور حقائق پر مبنی صحافت ہی جمہوریت کی مضبوطی اور عوامی اعتماد کی اصل بنیاد ہے۔