بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم نے اعلان کیا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آئندہ ہفتے اپنے پہلے سرکاری دورے پر نیوزی لینڈ پہنچیں گے۔ اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی، سفارتی اور اسٹریٹجک تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم نے جمعہ کے روز اپنے بیان میں کہا کہ انہیں وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کا اعلان کرتے ہوئے بے حد خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے ساتھ ساتھ تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور نیوزی لینڈ کی اقتصادی خوشحالی کے لیے ایک نہایت اہم شراکت دار کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط مزید مستحکم ہوں گے۔
انہوں نے اس موقع پر اپریل میں طے پانے والے نیوزی لینڈ۔بھارت آزاد تجارتی معاہدے (Free Trade Agreement) کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ اس کے نتیجے میں نیوزی لینڈ میں نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے، برآمدات میں اضافہ ہوگا اور اقتصادی ترقی کو مزید تقویت ملے گی۔ ساتھ ہی بھارتی کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ وزیر اعظم مودی کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، خوراک، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، اختراع، دفاع، سمندری سلامتی، قابل تجدید توانائی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔ دونوں رہنما ہند-بحرالکاہل خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی تعاون سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
دورے کے دوران کئی اہم مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) اور تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے جانے کا بھی امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم بڑھانے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور کاروباری روابط کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
نیوزی لینڈ میں ایک بڑی بھارتی برادری بھی آباد ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک مضبوط پل کا کردار ادا کرتی ہے۔ توقع ہے کہ وزیر اعظم مودی اپنے دورے کے دوران بھارتی کمیونٹی کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے اور انہیں بھارت اور نیوزی لینڈ کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اپنا کردار جاری رکھنے پر سراہیں گے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ پہلا سرکاری دورہ نہ صرف بھارت اور نیوزی لینڈ کے باہمی تعلقات کو نئی رفتار دے گا بلکہ ہند-بحرالکاہل خطے میں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو بھی مزید مضبوط بنانے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔