Tuesday, August 25, 2026 | 10 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • مسلم ووٹروں کے نام حذف کرنے کا الزام، بی جے پی پر اٹھے بڑے سوال

مسلم ووٹروں کے نام حذف کرنے کا الزام، بی جے پی پر اٹھے بڑے سوال

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 24, 2026 IST

مسلم ووٹروں کے نام حذف کرنے کا الزام، بی جے پی پر اٹھے بڑے سوال
اتراکھنڈ میں اسمبلی انتخابات سے قبل انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل SIR کو لے کر سیاسی تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے بی جے پی پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انتخابی فہرستوں سے مسلم ووٹروں کے نام مبینہ طور پر منتخب انداز میں حذف کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ الزامات کے مطابق، اتراکھنڈ کے پانچ اسمبلی حلقوں میں انتخابی فہرستوں سے نام حذف کرانے کے لیے سب سے زیادہ درخواستیں جمع کرانے والے پانچ افراد کا تعلق مبینہ طور پر بی جے پی سے ہے۔ اس دعوے نے انتخابی فہرستوں کی شفافیت اور ووٹروں کے حقوق کو لے کر سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
 
کیچھا اسمبلی حلقہ (Kichha)میں 4,857 درخواستوں کا دعویٰ
 
الزام ہے کہ کیچھا اسمبلی حلقے (Kichha) میں انتخابی فہرست سے نام حذف کرنے کے لیے مجموعی طور پر 4,857 درخواستیں موصول ہوئیں۔ ان میں سے 4,855 درخواستیں ایک ہی شخص، راجیش تیواری کی جانب سے جمع کرائے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جنہیں بی جے پی کا بوتھ لیول ایجنٹ بتایا جا رہا ہے۔ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو ایک ہی شخص کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں درخواستیں جمع کرانے کا معاملہ انتخابی عمل کی نگرانی اور تصدیق کے طریقہ کار پر اہم سوال اٹھاتا ہے۔
 
دیگر حلقے بھی الزامات کی زد میں
 
کیچھا (Kichha)کے علاوہ گدرپور، کھتیما، نانک مٹہ اور رودرپور اسمبلی حلقوں میں بھی مسلم ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ اس عمل کے ذریعے مخصوص برادری کے ووٹروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اگر نام بلاجواز حذف کیے گئے تو اس کا براہِ راست اثر ان کے حقِ رائے دہی پر پڑ سکتا ہے۔
 
انتخابی فہرستوں کی شفافیت پر سوال
 
انتخابی فہرست میں کسی شہری کا نام شامل ہونا اس کے ووٹ دینے کے بنیادی حق سے جڑا معاملہ ہے۔ اسی لیے نام حذف کرنے کے عمل میں شفافیت، مناسب تصدیق اور متاثرہ ووٹر کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دینا انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔بی جے پی پر لگائے گئے ان الزامات نے ریاست میں سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے۔ اپوزیشن اسے ’’ووٹ چوری‘‘ قرار دے رہی ہے اور انتخابی فہرستوں کی مکمل جانچ کا مطالبہ کر رہی ہے۔
 
دوسری جانب، ان الزامات کی حقیقت جاننے کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ انتخابی حکام درخواستوں، درخواست گزاروں کی شناخت اور نام حذف کیے جانے کی وجوہات کی باقاعدہ جانچ کریں۔ اب اصل سوال یہی ہے کہ کیا انتخابی فہرستوں سے نام حذف کرنے کی یہ کارروائی واقعی سیاسی بنیادوں پر کی جا رہی ہے، یا تمام درخواستوں کے پیچھے کوئی قانونی اور انتظامی وجہ موجود ہے؟ اس کا جواب سرکاری ریکارڈ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات سے ہی سامنے آسکے گا۔