• News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • پرجول ریونا کے جیل سیل سے موبائل برآمد، 80 سے زائد فحش ویڈیوز کا دعویٰ

پرجول ریونا کے جیل سیل سے موبائل برآمد، 80 سے زائد فحش ویڈیوز کا دعویٰ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 14, 2026 IST

پرجول ریونا کے جیل سیل سے موبائل برآمد، 80 سے زائد فحش ویڈیوز کا دعویٰ
عصمت دری کیس میں سابق رکن پارلیمنٹ پرجول ریونا عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ اب پرجول ریونا کے سیل سے برآمد موبائل فون کی جانچ کے حوالے سے ایک نیا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ کرائم برانچ (CCB) کے ذرائع کے مطابق، فون کی ابتدائی جانچ میں 80 سے 90 سے زائد ڈاؤن لوڈ کی گئی فحش ویڈیوز موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق، یہ موبائل فون سی سی بی کی جانب سے جیل میں کیے گئے اچانک چھاپے کے دوران ریونا کے سیل سے مبینہ طور پر برآمد کیا گیا تھا۔ چھاپے کے وقت فون کے استعمال میں ہونے کی بھی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس کے بعد جیل کے اندر موبائل فون تک رسائی اور سکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھنے لگے۔
 
فون میں مزید مواد ملنے کا دعویٰ
 
تحقیق سے واقف ذرائع کے حوالے سے یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ موبائل فون میں بعض خواتین کی قابل اعتراض تصاویر اور مختلف اخباری تراشے بھی موجود تھے۔ پولیس اب اس بات کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ مواد فون میں کب ڈاؤن لوڈ یا محفوظ کیا گیا تھا۔ تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ہائی سکیورٹی جیل کے اندر موبائل فون ریونا تک کیسے پہنچا؟ پولیس اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا فون کسی بیرونی شخص کے ذریعے جیل کے اندر پہنچایا گیا یا جیل کے کسی اہلکار سمیت کسی اور کی مدد سے اس تک رسائی ممکن ہوئی۔
 
جیل انتظامیہ پر بھی سوالات
 
جیل میں ممنوعہ موبائل فون کی موجودگی نے انتظامیہ کے سکیورٹی نظام پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ ریونا نے مبینہ طور پر فون کا استعمال کتنے عرصے تک کیا اور آیا اس دوران کسی سے رابطہ یا دیگر سرگرمیاں بھی انجام دی گئیں۔ فون سے متعلق ڈیجیٹل شواہد کی مزید جانچ کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ اس میں موجود مواد کب اور کس ذریعے سے ڈاؤن لوڈ کیا گیا۔
 
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پرجول ریونا پہلے ہی ایک سنگین عصمت دری کے مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ تاہم، موبائل فون میں موجود مبینہ مواد اور اس سے متعلق پولیس کے دعووں کی حتمی تصدیق تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گی۔ فی الحال سی سی بی کی تحقیقات کا مرکز موبائل فون کے ماخذ، اس کے استعمال، ڈیجیٹل مواد اور جیل کے اندر اس کی رسائی کے پورے نیٹ ورک کا پتہ لگانا ہے۔