البقیع آرگنائزیشن حیدرآباد چیپٹر نے حکومت سعودی عرب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مدینہ منورہ میں جنت البقیع میں اہل بیت اطہار اور صحابہ کرام کے مزارات کو دوبارہ تعمیر کریں۔ اس مطالبے کے ساتھ البقیع آرگنائزیشن کے زیر اہتمام اتوار 5/اپریل کو صبح 10 بجے دھرنا چوک اندرا پارک میں احتجاج منظم کیا جائے گا۔ 5 اپریل کو احتجاجی دھرنے میں خواتین کے لئے علیحدہ انتظام کیا گیا ہے اور میدان غدیر دار الشفاء سے اندرا پارک تک آمد و رفت کے لئے سواری کا انتظام کیا گیا ہے۔ آرگنائزیشن نے احتجاج میں شرکت کرنے والوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبح10 بجے تک دار الشفاء پہنچ جائیں۔
آرگنائزیشن کے عہدیداروں نے تمام مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مسلکی خطوط سے بالا تر ہوکر احتجاج میں شامل ہوں کیوں کہ اہل بیت اطہار، صحابہ کرام سے عقیدت اور محبت ہرمسلمان کو ہے اور ان کی مزارات کو شہید کئے جانے سے ہر ایک کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ شیعہ علمائے کرام نے حکومت ہند سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ سعودی عرب سے اپنے سفارتی تعلقات کا استعمال کرتے ہوئے سعودی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ ان مقدس مقامات کی دوبارہ تعمیر کریں اور اسے حکومت سعودی عرب کے ویژن 2030ء کا ایک جزء بنالیں، جنت البقیع میں مقامات مقدسہ کی تعمیر نو کے بعد سیاحت کو زبردست فروغ حاصل ہوگا۔
انہوں نے جنت البقیع کے مسئلے کو ایوان پارلیمنٹ میں اٹھانے کا بھی مطالبہ کیا۔ مولانا کامران حیدر، مولانا فیاض حسن، ڈاکٹر سید قدسی رضوی، مولانا مختار شجیع، جاوید حسین اور جناب رضاء علی سہیل نے مختلف زبانوں میں میڈیا سے خطاب کیا اور کہا کہ جنت البقیع کا مسئلہ صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ عالم اسلام کا مسئلہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے 1806ء میں اور پھر 1925-26ء میں جنت البقیع میں اہل بیت اطہار اور صحابہ کرام کی مزارات پر تعمیر کئے گئے گنبدوں، مقروں کو منہدم کردیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ترکی خلیفہ مراد سلیم نے یہ مقبرے تعمیر کروائے تھے جسے 1925-26ء میں مغربی طاقتوں کی ایماء پر منہدم کردیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ منہدم کئے گئے مزارات میں خاتون جنت حضرت بی بی فاطمہ الزہراءؓ، حضور ؐ کے فرزند حضرت ابراہیم کے علاوہ، حضرت امام حسن، حضرت امام باقر، حضرت امام زین العابدین اور حضرت امام جعفر صادق کے مزارات کے علاوہ کئی صحابہ کرام کے مزارات شامل ہیں۔اس کے علاوہ حضور اکرام ؐکے رضاعی والدہ بی بی حلیمہؓ، حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ، عبد الرحمن بن عوفؓ، حضرت ابو ہریرہؓ قابل ذکر ہیں۔ شیعہ اکابرین نے بتایا کہ جنت البقیع کے علاوہ مکہ مکرمہ میں جنت المعلیٰ میں بھی انہدامی کاروائی کی گئی، یہاں بھی حضور اکرمؐ کے آباء و اجداد کے علاوہ حضرت بی بی خدیجہ الکبریؓ کے مزار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر سعودی حکومت اجازت دے تو البقیع آرگنائزیشن جنت البقیع کے مزارات کی دوبارہ تعمیر کرنے کے لئے تیار ہیں۔ مقامات مقدسہ کی تعمیر نو کے لئے شیعہ اور سنی مسلمان متحد ہیں۔ جنتر منتر دہلی میں ہونے والے احتجاج میں شیعہ، سنی مسلمانوں کے ساتھ دیگر مذاہب کے لوگ بھی شامل رہتے ہیں۔