اتر پردیش کے ضلع رام پور میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی ایک بار پھر تنازع کا مرکز بن گئی ہے۔ رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (RDA) نے اتر پردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ 1973 کے سیکشن 27(1) کے تحت یونیورسٹی کیمپس کی 38 عمارتوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کے انہدام کا حکم جاری کیا ہے۔ اتھارٹی کا مؤقف ہے کہ یہ عمارتیں کسی منظور شدہ لے آؤٹ پلان یا تعمیراتی منظوری کے بغیر تعمیر کی گئی تھیں۔
اس کارروائی کے بعد سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن عمران پرتاپ گڑھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر حکومت اور انتظامیہ کے فیصلے پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جب جوہر یونیورسٹی تعمیر کی جا رہی تھی، اس وقت یہ علاقہ رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں شامل ہی نہیں تھا، لہٰذا آر ڈی اے سے لے آؤٹ پلان کی منظوری لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہی منطق اپنائی جائے تو ملک کی کئی یونیورسٹیاں اور سرکاری عمارتیں بھی اس معیار پر پوری نہیں اتریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر منظور شدہ لے آؤٹ پلان نہ ہونا ہی معیار ہے تو کیا تمام ایسی عمارتوں پر بھی بلڈوزر چلایا جائے گا؟ عمران پرتاپ گڑھی نے سول سوسائٹی سے بھی اپیل کی کہ وہ ایک بڑے تعلیمی ادارے کو بچانے کے لیے آواز بلند کرے۔
دوسری جانب رام پور کے ضلع مجسٹریٹ اجے کمار دویدی نے واضح کیا کہ یہ کارروائی مکمل قانونی عمل کے بعد کی گئی ہے۔ ان کے مطابق غیر قانونی تعمیرات کے خلاف جاری مہم کے تحت جوہر یونیورسٹی کا معائنہ کیا گیا، جس کے بعد جونیئر انجینئر کی رپورٹ کی بنیاد پر یونیورسٹی انتظامیہ کو نوٹس جاری کیا گیا۔ یونیورسٹی نے 8 جولائی کو اپنا جواب داخل کیا جبکہ 15 جولائی کو دونوں فریقوں کی موجودگی میں ذاتی سماعت بھی ہوئی۔
سماعت کے دوران یونیورسٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ سنگان کھیڑا گاؤں، جہاں کیمپس واقع ہے، 27 ستمبر 2024 سے قبل آر ڈی اے کے دائرہ اختیار میں شامل نہیں تھا، اس لیے اس وقت آر ڈی اے سے منظوری لینے کی کوئی قانونی ضرورت نہیں تھی۔ یونیورسٹی نے یہ بھی کہا کہ بیشتر عمارتیں پرانی ہیں اور انہیں موجودہ قوانین کی بنیاد پر غیر قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
تاہم رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے ان دلائل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تعمیر کے وقت بھی متعلقہ مجاز اتھارٹی سے اجازت لینا لازمی تھا۔ اتھارٹی کے مطابق ضلع پنچایت کے ریکارڈ میں صرف میڈیکل کالج اور اکیڈمک بلاک کے منظور شدہ نقشے موجود ہیں، جبکہ باقی 38 عمارتوں کے لیے کسی قسم کی قانونی منظوری کا ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔
ڈی ایم اجے کمار دویدی نے مزید کہا کہ چونکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے دو عمارتوں کے لیے باضابطہ منظوری حاصل کی تھی، اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ قانونی تقاضوں سے پوری طرح واقف تھی، لیکن اس کے باوجود دیگر عمارتیں بغیر اجازت تعمیر کی گئیں۔ اسی بنیاد پر آر ڈی اے نے انہیں غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔
رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اپنے حکم میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ اتر پردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ کے سیکشن 59 کے تحت ایسی تعمیرات کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے، چاہے بعد میں متعلقہ علاقہ اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں شامل کیا گیا ہو۔ فی الحال یہ معاملہ قانونی اور سیاسی دونوں سطحوں پر موضوعِ بحث بنا ہوا ہے، جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے آئندہ قانونی اقدامات کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔