بہار کی سیاست میں اس وقت زبردست ہلچل مچی ہوئی ہے۔ آنند موہن کے حالیہ بیان کے بعد راشٹریہ جنتا دل نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور جنتا دل یونائیٹڈ کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا۔ آر جے ڈی کے ترجمان مرتیونجے تیواری نے کہا کہ جے ڈی یو کے اندر بغاوت کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے اور پارٹی ٹوٹنے کے دہانے پر کھڑی ہے۔
آنند موہن کے اس الزام پر ردعمل دیتے ہوئے کہ جے ڈی یو میں وزارتی عہدوں کے لیے پیسے لیے جا رہے ہیں، مرتیونجے تیواری نے کہا کہ ابھی تو صرف ایک شخص سامنے آیا ہے، آگے ایک لمبی فہرست باقی ہے۔ بہت سے لوگ بغاوت کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ جے ڈی یو کا وجود خطرے میں ہے اور پارٹی کے ٹکڑے ہونا تقریباً طے ہے۔
بی جے پی اور جے ڈی یو اتحاد پر سوال
آر جے ڈی رہنما نے کہا کہ پردے کے پیچھے بی جے پی اور جے ڈی یو کے تعلقات میں شدید اختلافات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو پہلے ہی پیش گوئی کر چکے ہیں کہ موجودہ حکومت زیادہ دن نہیں چل پائے گی۔
مرکزی وزیر للن سنگھ کے اس بیان پر کہ سمراٹ چودھری نتیش کمار کے جانشین ہوں گے، مرتیونجے تیواری نے طنزیہ انداز میں کہا کے ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ جے ڈی یو عملی طور پر بی جے پی میں ضم ہو چکی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جے ڈی یو کے کئی رہنما کھل کر بی جے پی کی حمایت کر رہے ہیں اور دونوں جماعتوں کے انضمام کی تیاری جاری ہے۔
وزیراعظم پر بھی تنقید
آر جے ڈی ترجمان نے وزیر اعظم نریندر مودی کی عوامی اپیلوں پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف عوام کو ایندھن بچانے، سونا نہ خریدنے اور غیر ملکی سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف وزیر اعظم خود مسلسل بیرون ملک دورے کر رہے ہیں۔
مرتیونجے تیواری نے طنزیہ انداز میں کہا کہ آپ کے اچھے دن تو دنیا کی سیر میں گزر رہے ہیں، لیکن عام آدمی آج بھی سونا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ ایک سوال کے جواب میں آر جے ڈی رہنما نے مبینہ “یوگی ماڈل” پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ صرف پولیس مقابلے جرائم کا حل نہیں ہیں اور موجودہ صورتحال میں مجرموں کے حوصلے مزید بڑھے ہیں۔ بہار میں ان بیانات کے بعد سیاسی ماحول مزید گرم ہو گیا ہے اور حکمراں اتحاد کے مستقبل پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔