کانگریس کے سابق صدر اورلوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بی جے پی پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی بنگال اور آسام میں انتخابات میں ووٹ “چرائے گئے”۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ سب کچھ الیکشن کمیشن کی مدد سے کیا گیا۔ راہول گاندھی نے ممتا بنرجی کے اس بیان کی بھی حمایت کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مغربی بنگال میں 100 سے زیادہ سیٹیں چرائی گئی ہیں۔
راہول گاندھی کے مطابق، “آسام اور بنگال میں انتخابات چوری کرنے کے واضح معاملے سامنے آئے ہیں۔ ہم ممتا بنرجی کے اس دعوے سے متفق ہیں کہ سو سے زیادہ سیٹیں چرائی گئی ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے حربے پہلے بھی استعمال کیے جا چکے ہیں اور مدھیہ پردیش، ہریانہ، مہاراشٹر اور حتیٰ کہ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں بھی اسی طرح کے الزامات سامنے آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ “جب انتخابات اور ادارے دونوں ہی متاثر ہوں تو جمہوریت کے لیے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔”
دوسری جانب، حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج نے اپوزیشن کے INDIA Alliance کو بڑا جھٹکا دیا ہے۔ علاقائی سطح کے اہم رہنما جیسے ممتا بنرجی اور ایم کے اسٹالن اپنے مضبوط گڑھ میں شکست سے دوچار ہوئے، جس سے اتحاد کی سیاسی پوزیشن کمزور پڑ گئی ہے۔ کیرالہ میں کانگریس کی زیر قیادت یو ڈی ایف کی جیت ہی اپوزیشن کے لیے واحد بڑی کامیابی رہی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، ان نتائج کے ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اپوزیشن اتحاد کو نہ صرف اندرونی اتحاد برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے بلکہ کارکنوں کو متحرک رکھنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں اتحاد کے اندر دراڑ اس وقت مزید واضح ہوئی جب عام آدمی پارٹی کے سات راجیہ سبھا اراکین نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لی۔
ادھر، آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے انتخابی رجحانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ این ڈی اے کی کارکردگی وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں عوام کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نتائج “وکست بھارت” کے وژن اور ترقیاتی ایجنڈے کی تائید کرتے ہیں۔
نائیڈو نے مزید کہا کہ نوجوان ووٹرز ترقی، ساکھ اور قیادت سے مضبوط تعلق کو ترجیح دے رہے ہیں۔ انہوں نے اس کامیابی پر نریندر مودی، امیت شاہ، اور بی جے پی قیادت کے ساتھ ساتھ این ڈی اے کے کارکنوں اور حامیوں کو مبارکباد بھی پیش کی۔
موجودہ سیاسی منظرنامے میں ایک طرف انتخابی شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں، تو دوسری طرف نتائج نے حکمراں اتحاد کو مزید مضبوط اور اپوزیشن کو دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ ملکی سیاست کا اہم موضوع بن سکتا ہے۔