Sunday, August 23, 2026 | 08 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • راجستھان میں بڑا انکشاف، 611 سرکاری اسکولوں کی اپنی عمارت نہیں

راجستھان میں بڑا انکشاف، 611 سرکاری اسکولوں کی اپنی عمارت نہیں

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 22, 2026 IST

راجستھان میں بڑا انکشاف، 611 سرکاری اسکولوں کی اپنی عمارت نہیں
راجستھان: سرکاری اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔ ریاستی حکومت کے مطابق، راجستھان کے 611 سرکاری اسکول ایسے ہیں جن کی اپنی عمارت نہیں ہے۔ ان میں 10 اسکول صرف طالبات کے لیے قائم ہیں۔ یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی جانب سے ریاست کے سرکاری اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے اور تعلیمی سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے ’اسکول ٹھیک کرو‘ مہم چلائی جا رہی ہے۔
 
 
ریاستی حکومت نے یہ معلومات راجستھان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ٹیکا رام جولی کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔ حکومت کے اعداد و شمار نے ریاست کے سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی صورتحال پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ خاص طور پر ان اسکولوں کی حالت تشویش کا باعث ہے جہاں طلبہ کو اپنی مستقل عمارت تک دستیاب نہیں ہے۔
 
حکومت کے مطابق، ریاست میں مجموعی طور پر 611 سرکاری اسکول اپنی ذاتی عمارت کے بغیر چل رہے ہیں۔ ان میں 10 گرلز اسکول بھی شامل ہیں۔اس صورتحال کے بعد سوال اٹھ رہا ہے کہ جب سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کو بنیادی تعلیمی ڈھانچہ ہی دستیاب نہ ہو تو حکومت کی جانب سے معیاری تعلیم اور بہتر تعلیمی ماحول کے دعووں کو کس حد تک عملی شکل دی جا رہی ہے۔
 
CJP کی جانب سے اسکولوں کے معائنے کے دوران بھی ریاست کے مختلف سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات، عمارتوں، کلاس رومز اور دیگر انتظامات سے متعلق مسائل کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔اب اسمبلی میں سامنے آئے سرکاری اعداد و شمار نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے کہ راجستھان کے سرکاری اسکولوں میں صرف تعلیمی معیار ہی نہیں بلکہ بنیادی انفراسٹرکچر پر بھی فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔