مرکزی وزیر اور ریپبلکن پارٹی آف انڈیا (اتھاولے) کے سربراہ رام داس اٹھاولے نے ریزرویشن کے معاملے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ ریزرویشن کی مخالفت کرتے ہیں یا اسے ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے افراد کے خلاف غداری کے مقدمات بھی درج کیے جائیں۔ رام داس اٹھاولے نے ریزرویشن کو آئین کی جانب سے دیا گیا حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریزرویشن کی مخالفت کرنا دراصل آئین کی مخالفت کے مترادف ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دہلی کے جنتر منتر پر ریزرویشن نظام میں تبدیلی کے مطالبے کو لے کر احتجاج کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ریزرویشن مخالف مہم پر اٹھاولے کا اعتراض
رام داس اٹھاولے نے کہا کہ ریزرویشن کے خلاف ہونے والے مظاہروں اور سوشل میڈیا پر چلنے والی مہمات نے ایک بار پھر اس معاملے کو سیاسی بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض لوگ ریزرویشن کے نظام کو ختم کرنے یا اس میں بڑی تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریزرویشن محض ایک حکومتی پالیسی نہیں بلکہ آئینی انتظام کا حصہ ہے، اس لیے اسے ختم کرنے کے مطالبات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔
’ریزرویشن ختم نہیں کیا جاسکتا‘
مرکزی وزیر نے کہا کہ ریزرویشن ایک آئینی حق ہے اور اسے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق، سماجی طور پر پسماندہ طبقات کو نمائندگی اور مواقع فراہم کرنے کے لیے ریزرویشن کا نظام اہم ہے۔ دوسری جانب، ریزرویشن مخالف مظاہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری امداد اور ریزرویشن کے فوائد کے لیے اہلیت کا تعین ذات کے بجائے معاشی حیثیت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ مظاہرین نے موجودہ نظام میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔
جنتر منتر پر پولیس کی وارننگ
دریں اثنا، دہلی پولیس نے بھی جنتر منتر پر ریزرویشن کے معاملے میں احتجاج یا اجتماع کے حوالے سے وضاحت جاری کی۔ پولیس کے مطابق کسی فرد یا تنظیم کو اس مقصد کے لیے احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ پولیس نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض پوسٹس کو مبینہ طور پر گمراہ کن قرار دیتے ہوئے عوام کو بغیر اجازت جنتر منتر پر جمع ہونے سے خبردار کیا۔ اس کے باوجود اتوار کو بڑی تعداد میں مظاہرین جنتر منتر پہنچے۔ مظاہرین نے بینر اور پوسٹر اٹھا رکھے تھے اور ذات کی بنیاد پر ریزرویشن کے خلاف نعرے لگائے۔ ریزرویشن کے معاملے پر احتجاج اور سیاسی بیان بازی کے بعد ایک بار پھر ملک میں سماجی انصاف، آئینی حقوق اور مساوات سے متعلق بحث تیز ہوگئی ہے۔