Wednesday, July 15, 2026 | 28 محرم 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • سپریم کورٹ بھوج شالا کیس کی سماعت پر آمادہ، ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج

سپریم کورٹ بھوج شالا کیس کی سماعت پر آمادہ، ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jul 14, 2026 IST

سپریم کورٹ بھوج شالا کیس کی سماعت پر آمادہ، ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج
سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش کے تاریخی بھوج شالا۔کمال مولا مسجد کمپلیکس سے متعلق اہم مقدمے میں پیش رفت کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کی سماعت کے لیے انہیں جلد فہرست میں شامل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا جب مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں بھوج شالا کمپلیکس کو دیوی سرسوتی کے لیے وقف ایک مندر قرار دیا تھا، جس پر مسلم فریق نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
 
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جویمالیہ باغچی اور جسٹس وی موہن پر مشتمل بنچ نے درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ حذیفہ احمدی اور ایڈوکیٹ نظام پاشا پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت سے اپیل کی کہ اس معاملے کی فوری سماعت کی جائے۔
 
سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے درخواست گزاروں کے وکلاء کو ہدایت دی کہ وہ اپنی عرضیوں میں موجود تکنیکی خامیوں کو دور کریں تاکہ مقدمہ باقاعدہ سماعت کے لیے درج کیا جا سکے۔ عدالت نے یقین دلایا کہ تمام ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد درخواستوں کو جلد ہی مناسب بنچ کے سامنے سماعت کے لیے پیش کیا جائے گا۔
 
واضح رہے کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے 15 مئی کو اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ بھوج شالا۔کمال مولا مسجد کمپلیکس بنیادی طور پر دیوی سرسوتی کے لیے وقف ایک مندر ہے۔ عدالت نے اس فیصلے کے ساتھ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے اس پرانے انتظامی حکم کو بھی منسوخ کر دیا تھا، جس کے تحت مسلم برادری کو اس مقام پر جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت حاصل تھی۔
 
ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اس تاریخی مقام کی مذہبی حیثیت اور انتظامی اختیارات سے متعلق قانونی بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ مسلم درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے قانونی اور آئینی پہلوؤں کا سپریم کورٹ میں تفصیلی جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔
 
اب سپریم کورٹ میں اس مقدمے کی باقاعدہ سماعت کے بعد یہ واضح ہوگا کہ بھوج شالا۔کمال مولا مسجد کمپلیکس سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے پر کیا قانونی مؤقف اختیار کیا جاتا ہے اور مستقبل میں اس تاریخی مقام کے استعمال اور انتظام سے متعلق کیا رہنما اصول طے کیے جاتے ہیں۔ یہ مقدمہ مذہبی، تاریخی اور آئینی لحاظ سے نہایت اہم تصور کیا جا رہا ہے، جس پر ملک بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔