ایک باپ، جس نے اپنی پوری زندگی اپنی اولاد کے مستقبل کو سنوارنے میں گزار دی، اپنی آخری سانسوں تک صرف ایک خواہش لیے زندہ رہا... کہ اس کی بیٹیاں ایک بار آ کر اسے دیکھ لیں۔ مگر یہ خواہش پوری نہ ہو سکی۔ ہریانہ کے سونی پت میں واقع ایک اولڈ ایج ہوم میں رہنے والے بزرگ شیوچرن گپتا آخری لمحوں تک اپنی بیٹیوں کی راہ تکتے رہے۔ اولڈ ایج ہوم کے عملے کے مطابق، ان کی طبیعت بگڑنے کی اطلاع تقریباً 20 دن پہلے ہی اہلِ خانہ کو دے دی گئی تھی، مگر ان کی وفات تک کوئی بیٹی ان سے ملنے نہ آ سکی۔
ایسے میں منور رانا کا یہ شعر یاد آتا ہے:
کسی کو گھر ملا حصے میں، یا کوئی دکان آئی
میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا، میرے حصے میں ماں آئی
مگر جب باپ کی باری آئی، تو شاید اس کے حصے میں صرف انتظار اور تنہائی آئی۔
شیوچرن گپتا مہاراشٹر کے معروف کپڑا تاجروں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کا کوئی بیٹا نہیں تھا، مگر تین بیٹیاں تھیں۔ انہوں نے اپنی بیٹیوں کو بہترین تعلیم دلوائی، انہیں خودمختار بنایا، اور زندگی میں آگے بڑھنے کے قابل کیا۔ ان میں سے دو بیٹیاں پیشے کے اعتبار سے ٹیچر ہیں۔ لیکن قسمت کا تلخ پہلو یہ تھا کہ جب باپ کو اپنی اولاد کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، تو اس کے پاس کوئی موجود نہ تھا۔ رپورٹس کے مطابق، وفات کے بعد آخری رسومات کے اخراجات کے لیے ایک بیٹی نے آن لائن 5,100 روپے بھیج دیے، جبکہ والد کا آخری دیدار ویڈیو کال کے ذریعے کیا گیا۔ یہ واقعہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک لمحۂ فکریہ بھی ہے۔
کیا واقعی ہماری مصروف زندگیوں میں ماں باپ کے لیے وقت نہیں بچا؟ کیا وہ ہاتھ، جنہوں نے ہمیں چلنا سکھایا، اپنی آخری گھڑی میں ہمارا ہاتھ تھامنے کے بھی حق دار نہیں رہے؟ کیا کامیابی، نوکری اور روزمرہ کی مصروفیات والدین کی آخری خواہش سے بھی زیادہ اہم ہو گئی ہیں؟یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر ایک اولڈ ایج ہوم کا عملہ، جو خون کا رشتہ نہیں رکھتا، ایک بزرگ کی آخری وقت تک خدمت کر سکتا ہے، تو کیا اولاد اپنے والدین کے لیے چند لمحے بھی نہیں نکال سکتی؟
یاد رکھیے، ماں باپ کو ہمیشہ دولت یا مہنگے تحفوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اکثر انہیں صرف اپنی اولاد کی موجودگی، چند محبت بھرے لمحے اور یہ احساس چاہیے ہوتا ہے کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔ شاید آج بھی وقت ہے کہ ہم اپنے والدین کو ایک فون کر لیں، ان سے مل آئیں، ان کے ساتھ کچھ وقت گزار لیں۔ کیونکہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے جب نہ ویڈیو کال کسی کام آئے گی، نہ آن لائن ٹرانسفر... صرف یادیں اور پچھتاوا باقی رہ جائے گا۔