• News
  • »
  • قومی
  • »
  • بھارت۔امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف کسانوں کی دہلی میں مہاپنچایت

بھارت۔امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف کسانوں کی دہلی میں مہاپنچایت

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jul 21, 2026 IST

 بھارت۔امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف کسانوں کی دہلی میں مہاپنچایت
 
                                                                  
شمبھو بارڈر کو ایک بار پھر بند کر دیا گیا ہے۔ کسان مزدور سنگھرش کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ آج منگل کو دہلی میں ہونے والی مہاپنچایت میں شرکت کے لیے جا رہے ہیں۔ اس وجہ سے سڑک پر سیمنٹ کے بڑے سلیب لگا کر راستہ بند کر دیا گیا ہے۔دہلی کے کسان گھاٹ پر آج ایک بڑی مہاپنچایت ہوگی۔ پنجاب سے کسانوں کا ایک بڑا قافلہ اتوار کو ہی دہلی کے لیے روانہ ہو گیا تھا۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اس مہاپنچایت میں ملک بھر سے تقریبا 550 کسان یونین اور سماجی تنظیمیں شامل ہوں گی۔ یہ مہاپنچایت بھارت اور امریکہ کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدے کے خلاف کی جا رہی ہے۔
 

کسانوں کے مطالبات کیا ہیں؟

کسان مزدور سنگھرش کمیٹی پنجاب کے رہنما جرمن جیت سنگھ بندالہ نے کہا کہ یہ تجارتی معاہدہ ہندوستان کے کسانوں، مزدوروں اور چھوٹے تاجروں کے لیے بہت نقصان دہ ہوگا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس معاہدے کا مقصد صرف امریکہ کی کمپنیوں اور کسانوں کو فائدہ پہنچانا ہے۔ اس میں ہندوستان کے چھوٹے اور غریب کسانوں کے بارے میں نہیں سوچا گیا۔ بندالہ نے کہا کہ پنجاب کے کسان دوسری ریاستوں کے کسانوں کے ساتھ مل کر آج کی مہاپنچایت میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پولیس نے انہیں کسان گھاٹ تک جانے سے روکا تو وہ جہاں روکے جائیں گے وہیں پر بیٹھ کر پرامن طریقے سے اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ بندالہ نے خبردار کیا کہ یہ احتجاج صرف شروعات ہے۔ اگر حکومت نے بھارت امریکہ تجارتی معاہدہ ختم نہیں کیا اور کسانوں کے مطالبات نہیں مانے تو احتجاج کو اور تیز کیا جائے گا۔ کسان تنظیموں نے کہا ہے کہ وہ اپنے مطالبات منوائے بغیر اپنی تحریک ختم نہیں کریں گے۔کسان مزدور مورچہ کے رہنما سرون سنگھ پنڈھر نے بتایا کہ پنجاب، ہریانہ، ہماچل پردیش اور راجستھان سمیت کئی ریاستوں کے کسان دہلی پہنچ رہے ہیں۔  
 
پنڈھر نے کہا کہ اگر بھارت امریکہ تجارتی معاہدہ ہو گیا تو امریکہ سے سستی زرعی چیزیں ہندوستان میں آئیں گی۔ اس سے ہمارے کسان، زرعی مزدور، مویشی پالنے والے اور چھوٹے تاجر سب کو نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ صرف زراعت تک محدود نہیں رہے گا۔ اس میں ڈیری، صنعت، ڈیجیٹل تجارت، ای کامرس، سرکاری خریداری اور دیگر دوسرےشعبے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ کسانوں نے مرکز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس تجارتی معاہدے کو فورا ختم کرے اور ملک کے کسانوں اور عام لوگوں کے مفادات کی حفاظت کرے۔ پنجاب کی کئی کسان تنظیمیں پہلے ہی اس معاہدے کے خلاف احتجاج کر چکی ہیں۔ انہوں نے اس کے خلاف موٹر سائیکل مارچ بھی نکالا تھا۔