مہاراشٹر کی سیاست میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے دو دھڑوں کے ممکنہ انضمام کی قیاس آرائیوں کے درمیان این سی پی کے سربراہ اورسابق وزیر اعلیٰ شرد پوار نے بڑا بیان دیتے ہوئے تمام امکانات کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ان کے دھڑے اورآنجہانی اجیت پوار کے گروپ کے ایک ساتھ آنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں شرد پوار نے کہا، "ایک ساتھ آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔" ان کے اس مختصر مگر واضح بیان کے بعد این سی پی کے دونوں دھڑوں کے انضمام سے متعلق جاری قیاس آرائیوں کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔وہیں دوسری طرف شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے رہنما سنجے راوت نے بھی اس معاملے پر اپنا مؤقف دہرایا۔ جب ان سے شرد پوار کے این ڈی اے میں شامل ہونے کی خبروں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا، میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ شرد پوار کبھی بھی بی جے پی میں شامل نہیں ہوں گے۔ ان کا نظریہ ایسا نہیں ہے کہ وہ نریندر مودی یا بی جے پی کے ساتھ جائیں۔
اس سے قبل شرد پوار کی صاحبزادی اور بارامتی سے رکن پارلیمنٹ سپریہ سولے بھی ان تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ این سی پی (شرد چندر پوار) کو نہ تو این ڈی اے میں شامل ہونے کی کوئی پیشکش ملی ہے اور نہ ہی پارٹی کا ایسا کوئی ارادہ ہے۔ سپریہ سولے نے کہا تھا کہ این ڈی اے یا کسی دوسرے اتحاد میں شمولیت سے متعلق جو خبریں گردش کر رہی ہیں، وہ محض میڈیا کی قیاس آرائیاں ہیں اور ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ان کے مطابق پارٹی اپنی موجودہ سیاسی حکمت عملی پر قائم ہے۔
طلبہ کے خلاف درج ایف آئی آر پر بھی شرد پوار کا ردعمل
اسی دوران مہاراشٹر میں طلبہ تحریک کے دوران احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف درج ایف آئی آر کے معاملے پر بھی شرد پوار نے ردعمل ظاہر کیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا طلبہ کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جائیں گے یا نہیں، تو انہوں نے کہا، میں نے جو بات کی ہے، اس کا کوئی نہ کوئی حل ضرور نکلے گا۔ شرد پوار کے اس بیان کو طلبہ کے معاملے میں مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ شرد پوار، سپریہ سولے اور سنجے راوت کے تازہ بیانات کے بعد یہ واضح ہوتا دکھائی دے رہا ہے کہ این سی پی اپنے موجودہ سیاسی مؤقف پر قائم ہے اور اجیت پوار کے دھڑے یا این ڈی اے کے ساتھ انضمام یا اتحاد کے امکانات کو فی الحال مسترد کر رہی ہے۔