Tuesday, May 19, 2026 | 01 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • یوپی پنچایت انتخابات سے قبل او بی سی ریزرویشن پر بڑا قدم

یوپی پنچایت انتخابات سے قبل او بی سی ریزرویشن پر بڑا قدم

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: May 18, 2026 IST

یوپی پنچایت انتخابات سے قبل او بی سی ریزرویشن پر بڑا قدم
اترپردیش میں آئندہ پنچایتی انتخابات سے پہلے ریاستی حکومت نے دیہی بلدیاتی اداروں میں او بی سی ریزرویشن کے معاملے پر ایک اہم فیصلہ لیا ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایات پرعمل کرتے ہوئے حکومت نے پسماندہ طبقات کے لیے ریاستی مقامی دیہی ادارہ کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔
 
اس کمیشن کا بنیادی مقصد دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کی سماجی اور انتظامی پسماندگی کا جائزہ لینا ہے تاکہ تین سطحی پنچایتی اداروں میں ریزرویشن کو منصفانہ بنیادوں پر نافذ کیا جا سکے۔
 
پنچایت کا کیا جائے گا سروے 
 
حکومت کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق کمیشن ریاست بھر میں پنچایت وار مطالعہ کرے گا۔ اس سروے کے ذریعے مختلف علاقوں میں پسماندہ طبقات کی نمائندگی کا جائزہ لیا جائے گا، جس کی بنیاد پر متناسب ریزرویشن کا تعین کیا جائے گا۔
 
ریاست میں پنچایتوں کے ریزرویشن کا نظام اتر پردیش پنچایتی راج ایکٹ 1947 اور اتر پردیش کھیتر پنچایت و ضلع پنچایت ایکٹ 1961 کے تحت نافذ ہے۔ اسی مقصد کے لیے اتر پردیش پنچایتی راج ریزرویشن رولز 1994 اور کھیتر و ضلع پنچایت ریزرویشن رولز 1994 پہلے سے نافذ ہیں، جن کے تحت گرام پنچایت، کھیتر پنچایت اور ضلع پنچایت کی نشستوں اور عہدوں کے لیے ریزرویشن طے کیا جاتا ہے۔
 
او بی سی ریزرویشن 27 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگا
 
آئین کے آرٹیکل 243D اور متعلقہ قوانین کے تحت ریاستی حکومت کو درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور او بی سی طبقات کے لیے ریزرویشن نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ پسماندہ طبقات کے لیے ریزرویشن کل نشستوں کے 27 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگا۔ چونکہ او بی سی آبادی کے سرکاری اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، اس لیے ان کی تعداد جاننے کے لیے خصوصی سروے کرایا جائے گا۔
 
پانچ رکنی کمیشن تشکیل دیا جائے گا
 
ریاستی حکومت اس مقصد کے لیے پانچ رکنی کمیشن تشکیل دے گی، جس میں پسماندہ طبقات سے متعلق امور کے ماہرین کو شامل کیا جائے گا۔ کمیشن کے چیئرمین کے طور پر ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کو مقرر کیا جائے گا۔ حکومت کے مطابق کمیشن کے چیئرمین اور ارکان کی مدت تقرری کی تاریخ سے چھ ماہ ہوگی۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ پنچایتی انتخابات سے قبل او بی سی ریزرویشن کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے یہ اقدام انتہائی اہم ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ گزشتہ کچھ برسوں سے یہ معاملہ ریاست کی سیاست میں ایک بڑا موضوع بنا ہوا ہے۔