جموں وکشمیر کے ضلع شوپیان میں جامع سراج العلوم کی بحالی کے مطالبے پر طلبا اور والدین نے جمعرات کو احتجاج کیا۔ ڈپٹی کمشنر آفس کے باہر مظاہرین نے نعرہ بازی کی۔جامعہ سراج العلوم کے سینکڑوں طلبا اوران کے والدین نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور معروف دینی و تعلیمی ادارے کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ طلبا نے الزام لگایا کہ حکام نے تعلیمی ادارہ بند کر کے اِن کا روشن مستقبل تاریک کر دیا ہے اور وہ سخت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔احتجاجیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ادارے کو جلد از جلد بحال کیا جائے تاکہ سینکڑوں طلبہ کا تعلیمی مستقبل محفوظ رہ سکے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ اسکول کی بندش کے باعث طلبہ کی تعلیم بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور ان کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ طلبا نے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھامے رکھے تھے۔طلبا کا کہنا تھا کہ بورڈ کے امتحانات قریب ہیں اور اس نازک وقت میں ہمیں سڑکوں پر آنے کےلئے مجبور کیا جار ہا ہے۔ والدین نے اپنے بچوں کی تعلیم کو لیکر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
والدین نے حکومت سے فیصلے پر نظر ثانی کرنے اپیل کی کہ بچوں کی تعلیم کو سیاسی یا قانونی تنازعات کی نذر نہ کیا جائے۔ انھوں نے بتایا کہ جامع سراج العلوم علاقے کے اہم تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے اور یہاں زیر تعلیم بچوں کے لیے متبادل تعلیمی انتظامات موجود نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے بند ہونے سے طلبا ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو رہے ہیں۔
اسی دوران، اسکول کے متعدد اساتذہ نے بھی ڈپٹی کمشنر شوپیان سے ملاقات کی اور ادارے کی بحالی سے متعلق اپنا مؤقف پیش کیا۔ تاہم اس معاملے پر ضلع انتظامیہ یا حکومت کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں جموں و کشمیر انتظامیہ نے شوپیان کے امام صاحب علاقے میں قائم جامع سراج العلوم کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی عمارت اور دیگر اثاثے ضبط کر لیے تھے۔ حکام کے مطابق یہ کاروائی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون یو اے پی اے 1967 کے تحت انجام دی گئی، جس میں کالعدم تنظیم کے ساتھ مبینہ روابط، مالی بے ضابطگیوں اور ادارے کے احاطے کے مبینہ غلط استعمال کے خدشات کو بنیاد بنایا گیا تھا۔