اوڈیشہ میں ایک شخص کو تقریباً 22 سال جیل میں گزار نے پڑے، لیکن اب سپریم کورٹ نے اسے بے گناہ قرار دیتے ہوئے تمام الزامات سے بری کر دیا ہے۔ عدالت کے فیصلے نے نہ صرف اس مقدمے کی تفتیش بلکہ عدالتی کارروائی کے مختلف مراحل پر بھی سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ معاملہ تین خواتین کے قتل سے متعلق تھا، جس میں پولیس نے محض شک کی بنیاد پر ایک شخص کو حراست میں لیا۔ الزام ہے کہ تفتیش کے دوران اس سے "تھرڈ ڈگری" تشدد کے ذریعے اعترافی بیان لیا گیا، جسے بعد میں استغاثہ نے اہم ثبوت کے طور پر پیش کیا۔ دفاع کا مؤقف تھا کہ یہ اعتراف دباؤ اور تشدد کے نتیجے میں حاصل کیا گیا تھا، اس لیے اسے قابل اعتماد نہیں مانا جا سکتا۔
ٹرائل کورٹ نے مقدمے کی سماعت کے بعد ملزم کو سزا سنا دی، حالانکہ بعد میں اس فیصلے میں پیش کیے گئے شواہد اور ان کے تجزیے پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ سزا کے خلاف جب معاملہ اوڈیشہ ہائی کورٹ پہنچا تو وہاں بھی کیس پر غور کرنے کے بجائے تکنیکی نکات اور تاخیر کو اہمیت دی گئی۔ ہائی کورٹ نے اپیل کو اس بنیاد پر مسترد کر دیا کہ درخواست 3,157 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی تھی۔ اس وقت تک ملزم تقریباً 12 سال جیل میں گزار چکا تھا۔ اس کے بعد اس نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، جہاں طویل سماعت اور قانونی کارروائی کے بعد بالآخر فیصلہ اس کے حق میں آیا۔ تاہم اس دوران مزید برس گزر گئے اور مجموعی طور پر وہ 22 سال قید میں رہا۔
سپریم کورٹ نے مقدمے کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف جرم ثابت کرنے کے لیے قابلِ اعتماد اور مضبوط شواہد پیش نہیں کر سکا۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فوجداری مقدمات میں صرف شبہ یا کمزور شواہد کی بنیاد پر کسی شخص کو سزا نہیں دی جا سکتی، بلکہ جرم ہر معقول شک سے بالاتر ہو کر ثابت ہونا ضروری ہے۔یہ فیصلہ ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیتا ہے کہ اگر کوئی شخص برسوں جیل میں رہنے کے بعد بے گناہ ثابت ہو جائے تو اس کے ضائع ہونے والے برسوں، ذہنی اذیت اور سماجی نقصان کا ازالہ کیسے ہوگا؟ یہ مقدمہ اس حقیقت کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ انصاف صرف سزا دینے کا نام نہیں، بلکہ بروقت، منصفانہ اور شواہد پر مبنی فیصلہ بھی انصاف ہی کا بنیادی تقاضا ہے۔