• News
  • »
  • فلمیں/ طرززندگی
  • »
  • سمے رائنا کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، تمام ایف آئی آر منسوخ

سمے رائنا کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، تمام ایف آئی آر منسوخ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 14, 2026 IST

سمے رائنا کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، تمام ایف آئی آر منسوخ
کامیڈین سمے رائنا کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے شو ’انڈیاز گوٹ لیٹنٹ‘ میں معذور افراد کے بارے میں مبینہ طور پر غیر حساس تبصروں کے معاملے میں سمے رائنا اور چار دیگر افراد کے خلاف درج تمام ایف آئی آر اور متعلقہ مجرمانہ کارروائیاں ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم اس وقت سامنے آیا جب درخواست گزار این جی او نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ سمے رائنا اب تنظیم کے ساتھ رابطے میں ہیں اور اسپائنل مسکولر ایٹروفی (SMA) میں مبتلا افراد کی کامیابیوں اور ان کی مشکلات کے بارے میں عوامی بیداری بڑھانے کے لیے کام کرنے پر رضامند ہیں۔
 
سپریم کورٹ نے کیا کہا؟
 
عدالت نے اپنے حکم میں نوٹ کیا کہ سمے رائنا اور دیگر افراد نے معذور افراد کے لیے بیداری پروگرام منعقد کرنے اور فنڈز جمع کرنے کی کوششیں بھی کی ہیں۔بنچ نے مشاہدہ کیا کہ جب نوجوان افراد اپنی توانائی اور صلاحیتوں کو صحیح سمت میں استعمال کرتے ہیں تو اس کے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ عدالت نے ان کوششوں کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا اور اسی بنیاد پر ملزمان کے خلاف جاری مجرمانہ کارروائیوں کو ختم کرنے کا حکم دیا۔
 
سپریم کورٹ نے ساتھ ہی واضح کیا کہ معذور افراد سے متعلق وسیع تر مسئلہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ عدالت مختلف معذوریوں سے متاثرہ افراد سے تجاویز حاصل کرے گی تاکہ ایسے مواد کی نگرانی، حساس موضوعات کی پیشکش اور مستقبل کے لیے مناسب رہنما اصول وضع کرنے کے امکانات پر غور کیا جا سکے۔ عدالت نے کہا کہ وہ SMA کے مریضوں کی مدد اور ان کے حقوق سے متعلق حکومت کو ضروری ہدایات دینے کے معاملے پر سماعت جاری رکھے گی۔
 
’انڈیاز گوٹ لیٹنٹ‘ تنازع کیا تھا؟
 
یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب ’انڈیاز گوٹ لیٹنٹ‘ کے ایک ایپی سوڈ میں معذور افراد کے حوالے سے مبینہ طور پر غیر حساس اور توہین آمیز تبصرے کیے گئے۔ اس کے بعد سمے رائنا سمیت شو سے وابستہ متعدد کامیڈینز اور انفلوئنسرز کے خلاف مختلف مقامات پر مقدمات درج کیے گئے تھے۔ متعلقہ ایپی سوڈ 14 نومبر 2024 کو ممبئی کے کھر ہیبی ٹیٹ میں ریکارڈ کیا گیا تھا، جس کے بعد اسے آن لائن نشر کیا گیا۔
 
رنویر الہ بادیا کی درخواست ابھی بھی زیر التوا
 
دریں اثنا، اسی معاملے میں یوٹیوبر رنویر الہ بادیا کی جانب سے دائر درخواست پر ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ رنویر الہ بادیا بھی ان افراد میں شامل ہیں جن کے خلاف متنازع تبصروں کے سلسلے میں مقدمات درج کیے گئے تھے۔سپریم کورٹ نے انہیں پہلے ہی گرفتاری سے عبوری تحفظ فراہم کر رکھا ہے، تاہم ان کے خلاف درج مقدمات کو ختم کرنے کی درخواست ابھی عدالت میں زیر سماعت ہے۔یوں سمے رائنا کو اس معاملے میں بڑی قانونی راحت مل گئی ہے، جبکہ سپریم کورٹ اب معذور افراد کے حوالے سے حساس مواد کی نگرانی اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے وسیع تر رہنما اصول وضع کرنے کے معاملے پر بھی غور کرے گی۔