• News
  • »
  • سیاست
  • »
  • سپریم کورٹ نے درخواست مسترد کر دی، وزیر اعلیٰ پر پابندی سے انکار

سپریم کورٹ نے درخواست مسترد کر دی، وزیر اعلیٰ پر پابندی سے انکار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jul 07, 2026 IST

سپریم کورٹ نے درخواست مسترد کر دی، وزیر اعلیٰ پر پابندی سے انکار
سپریم کورٹ نے تمل ناڈو کے کرور بھگدڑ سانحے کے معاملے میں دائر اس درخواست کو مسترد کر دیا، جس میں ریاستی وزراء کو اس واقعے پر بیانات دینے سے روکنے اور وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے کے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات پر پابندی لگانے کی استدعا کی گئی تھی۔
 
سماعت کے دوران عدالت نے واضح کیا کہ وہ کسی وزیر اعلیٰ کی سیاسی یا انتظامی سرگرمیوں پر حکم جاری نہیں کر سکتی۔ تعطیلاتی بنچ، جس میں جسٹس کے وی وشواناتھن اور جسٹس آلوک ارادھے شامل تھے، نے کہا کہ عدالت سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔
 
وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے کرور کے دورے پر جا رہے ہیں، جہاں وہ بھگدڑ میں جان گنوانے والے 41 افراد کے اہل خانہ کے لیے فی کس 10 لاکھ روپے معاوضے اور ایک سرکاری ملازمت کا اعلان کرنے والے ہیں۔ اس دورے پر اپوزیشن جماعت ڈی ایم کے نے اعتراض اٹھایا تھا۔
 
درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی 27 ستمبر 2025 کو پیش آنے والے اس سانحے کی تحقیقات سی بی آئی کے سپرد کر چکی ہے اور اس کی نگرانی کے لیے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس اجے رستوگی کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔ درخواست میں الزام لگایا گیا کہ موجودہ حکومت کے بعض وزراء کے بیانات تحقیقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
 
تاہم عدالت نے اس مؤقف سے اتفاق نہیں کیا۔ بنچ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس مقدمے کی ایف آئی آر میں وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے کا نام بطور ملزم شامل نہیں ہے، اس لیے ان کے دورے یا بیانات کو روکنے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔
 
ڈی ایم کے کی جانب سے سینئر وکیل رنجیت کمار نے دلائل پیش کیے، لیکن عدالت نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کو سیاسی تنازعات کا میدان نہیں بنایا جانا چاہیے۔
 
جسٹس کے وی وشواناتھن نے ریمارکس دیے، آپ عدالت سے کیا چاہتے ہیں؟ کیا ہم آپ کے سیاسی مخالف کو روک دیں؟ اگر وہ بیان دے رہے ہیں تو آپ بھی عوام کے سامنے اپنا مؤقف رکھ سکتے ہیں۔ سیاسی اختلافات کا فیصلہ عدالت میں نہیں بلکہ عوامی میدان میں ہونا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ عدالت کا کام صرف قانونی اور آئینی معاملات کا جائزہ لینا ہے، نہ کہ سیاسی سرگرمیوں یا بیانات کو کنٹرول کرنا۔