سپریم کورٹ آج نیٹ پیپر لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کے دوران مبینہ پولیس تشدد سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت کرے گی۔ اس سماعت کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ عدالت آزادانہ تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دینے کے مطالبے پر بھی غور کر سکتی ہے۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ احتجاج کے دوران متعدد مقامات پر طلبہ کے خلاف غیر ضروری طاقت استعمال کی گئی، جس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ اسی تناظر میں سپریم کورٹ سے آزاد ایس آئی ٹی تشکیل دینے کی اپیل کی گئی ہے تاکہ تمام الزامات کی شفاف جانچ ممکن ہو سکے۔
اس سے قبل سپریم کورٹ اس معاملے میں کئی اہم عبوری ہدایات جاری کر چکی ہے۔ عدالت نے نابالغ طلبہ کی فوری رہائی، احتجاج سے متعلق تمام سی سی ٹی وی فوٹیج، ویڈیو ریکارڈنگ اور دیگر ڈیجیٹل شواہد محفوظ رکھنے کی ہدایت دی تھی۔ ساتھ ہی عدالت نے حکام کو یہ بھی کہا تھا کہ طلبہ کے خلاف بلاوجہ سخت یا غیر ضروری کارروائی سے گریز کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے مختلف ریاستی حکومتوں اور متعلقہ حکام سے بھی اس معاملے پر تفصیلی جواب طلب کیا ہے تاکہ احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعات، پولیس کارروائی اور طلبہ کے الزامات کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔
آج ہونے والی سماعت پر طلبہ، والدین، تعلیمی حلقوں اور مختلف سیاسی جماعتوں کی گہری نظر ہے، کیونکہ عدالت کے آئندہ احکامات اس معاملے کی تحقیقات اور مستقبل کی قانونی کارروائی کی سمت متعین کر سکتے ہیں۔