Friday, May 08, 2026 | 20 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • تمل ناڈو: اگر 'ٹی وی کے' کے تمام 107 اراکینِ اسمبلی استعفیٰ دے دیں تو کیا ہوگا؟

تمل ناڈو: اگر 'ٹی وی کے' کے تمام 107 اراکینِ اسمبلی استعفیٰ دے دیں تو کیا ہوگا؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 08, 2026 IST

 تمل ناڈو: اگر 'ٹی وی کے' کے تمام 107 اراکینِ اسمبلی استعفیٰ دے دیں تو کیا ہوگا؟
تمل ناڈو کی سیاست میں اس وقت ہلچل مچی ہوئی ہے جب تھلاپتی وجے کی پارٹی تاملگا ویٹری کڑگم (TVK) نے حالیہ انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں، لیکن اکثریت کے جادوئی ہندسے تک پہنچنے کے لیے اسے اتحادیوں کی ضرورت ہے۔ اس دوران DMK اور AIADMK کے درمیان اتحاد کی خبروں نے سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے۔ جواب میں TVK کے تمام اراکینِ اسمبلی نے اجتماعی استعفیٰ دینے کی دھمکی دی ہے۔آئیے جانتے ہیں کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو ریاست کی سیاست اور حکومت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
 
 استعفوں کو لے کر TVK کا موقف کیا ہے؟
 
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر DMK اور AIADMK مل کر حکومت بنانے کی کوشش کرتے ہیں، تو تھلاپتی وجے کی پارٹی کے تمام 107 اراکینِ اسمبلی ایک ساتھ استعفیٰ دے سکتے ہیں۔ اگرچہ وجے نے ابھی تک باضابطہ طور پر کوئی بیان نہیں دیا ہے، لیکن پارٹی کا ماننا ہے کہ دونوں روایتی پارٹیاں عوامی مینڈیٹ کی توہین کرتے ہوئے سب سے بڑی پارٹی کو اقتدار سے باہر رکھنا چاہتی ہیں۔
 
 اگر 107 اراکین استعفیٰ دیں تو کیا ہوگا؟
 
تمل ناڈو اسمبلی کی کل نشستیں 234 ہیں اور اکثریت کے لیے 118 اراکین کی حمایت ضروری ہے۔ اگر 107 اراکین استعفیٰ دیتے ہیں اور اسپیکر انہیں قبول کر لیتا ہے، تو ایوان کی موثر تعداد 127 رہ جائے گی۔ایسی صورت میں اکثریت کا ہندسہ 118 سے کم ہو کر محض 64 پر آ جائے گا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ DMK-AIADMK اتحاد آدھی اسمبلی خالی ہونے کے باوجود قانونی طور پر آسانی سے حکومت بنا سکے گا۔
 
 کیا استعفیٰ دینا اتنا آسان ہے؟
 
آئین کے آرٹیکل 190(3)(b) کے تحت، کسی بھی رکنِ اسمبلی کا استعفیٰ اسی وقت نافذ العمل ہوتا ہے جب اسپیکر اسے قبول کر لے۔ اسپیکر کے لیے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ استعفیٰ رضاکارانہ ہے اور کسی دباؤ میں نہیں دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے بھی 2019 کے کرناٹک کیس میں واضح کیا تھا کہ اسپیکر کو استعفوں کی حقیقت جانچنے کا مکمل اختیار ہے۔
 
 اسپیکر کی عدم موجودگی میں کیا ہوگا؟
 
چونکہ ابھی نئی اسمبلی کی تشکیل باضابطہ طور پر نہیں ہوئی ہے، اس لیے فی الحال کوئی مستقل اسپیکر نہیں ہے۔ عام طور پر ایک کارگزار اسپیکر (Pro-tem Speaker) مقرر کیا جاتا ہے جو نئے اراکین کو حلف دلاتا ہے۔ اگر حلف برداری سے پہلے استعفیٰ دیا جاتا ہے، تو گورنر حکومت سازی اور فلور ٹیسٹ کو ترجیح دے سکتے ہیں۔ اگر حکومت بننے کے بعد استعفیٰ دیا جاتا ہے، تو اسپیکر ہر رکن کو انفرادی طور پر بلا کر پوچھ گچھ کر سکتا ہے کہ آیا استعفیٰ اپنی مرضی سے دیا گیا ہے یا پارٹی کے دباؤ میں۔
 
 کیا اجتماعی استعفوں سے حکومت گر جائے گی؟
 
تکنیکی طور پر، استعفوں سے حکومت نہیں گرے گی۔ بلکہ ایوان کی مجموعی تعداد کم ہونے سے موجودہ حکومت کے لیے اکثریت ثابت کرنا مزید آسان ہو جائے گا۔ تاہم، اتنی بڑی تعداد میں اراکین کے باہر ہونے سے حکومت کی اخلاقی حیثیت اور عوامی مینڈیٹ پر سنگین سوالات کھڑے ہوں گے، جو ریاست میں دوبارہ قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔