تلنگانہ کے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی نے پالی ٹیکنک کالجزکی نجکاری کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ان اداروں کو ینگ انڈیا اِسکل یونیورسٹی (YISU) کے تحت صرف طلبہ کے بہتر مستقبل اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے لا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تین سالہ ڈپلومہ کورس جاری رہے گا، عملے کی ملازمتوں کو خطرہ نہیں ہوگا اور فیس میں بھی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
ریونت ریڈی نے جمعہ کو اسمبلی میں تعلیم کے موضوع پر ہونے والی بحث میں حصہ لیتے ہوئے تلنگانہ کی مجوزہ تعلیمی پالیسی پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ارکان اسمبلی کی تجاویز کا جائزہ لے گی۔ ان کے مطابق تعلیمی پالیسی کا مقصد تلنگانہ کے طلبہ کو عالمی سطح پر مقابلے کے لیے تیار کرنا اور دنیا کے بہترین تعلیمی طریقوں کو اپنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خاص طور پر (Gen Alpha) اور (Gen Beta) کے لیے معیاری تعلیم پر توجہ دینا چاہتی ہے۔
پالی ٹیکنک کالجز اور ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی سینٹرز (ATCs) سے متعلق طلبہ کے خدشات پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت طلبہ اور دیگر متعلقہ فریقین سے بات چیت کے بعد اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کے لیے تیار ہے۔ ان خدشات کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ پالی ٹیکنک اداروں کی نجکاری کی باتیں بے بنیاد ہیں۔ تین سالہ ڈپلومہ کورس اسی طرح جاری رہے گا۔ انہوں نے پالی ٹیکنک طلبہ کو انجینئرنگ کورسز میں لیٹرل انٹری یعنی براہ راست داخلے کی سہولت جاری رکھنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔
وزیراعلیٰ کے مطابق پالی ٹیکنک طلبہ کو ماہانہ 2,500 روپے جبکہ ینگ انڈیاسکل یونیورسٹی کے طلبہ کو 2,000 روپے وظیفہ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت 'YISU کے لیے آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن (AICTE) کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ریونت ریڈی نے پالی ٹیکنک طلبہ سے اپیل کی کہ وہ مجوزہ تبدیلیوں کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی سینٹرز کا دورہ کریں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹاٹا گروپ نے 59 پالی ٹیکنک کالجز کی ترقی کے لیے 4,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے سلسلے میں ریاستی حکومت کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت (MoU) پر دستخط کیے ہیں۔ حکومت نے نئے' ATCs 'کے لیے 282 ایکڑ زمین بھی مختص کی ہے۔
وزیراعلیٰ نے اپوزیشن جماعت' BRS 'پر تعلیمی اصلاحات سے متعلق غلط معلومات پھیلانے اور سیاسی فائدے کے لیے طلبہ کو استعمال کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی "فارم ہاؤس سازشیں" کامیاب نہیں ہوں گی۔ ریونت ریڈی نے 'BRS' کے سینئر رہنما اور سدی پیٹ کے رکن اسمبلی ٹی ہریش راؤ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہریش راؤ، جو ماسب ٹینک پالی ٹیکنک کالج کے طالب علم رہ چکے ہیں، حکومت کے منصوبوں کے بارے میں طلبہ کو گمراہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے سابقہ 'BRS' حکومت پر عثمانیہ یونیورسٹی کی زمین کو 2BHK مکانات کی تعمیر کے لیے مختص کرنے پر غور کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
ریونت ریڈی نے کہا کہ فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کی وجہ سے پالی ٹیکنک کالجز میں طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق طلبہ کی تعداد 59 فیصد سے بڑھ کر 95 فیصد ہوگئی ہے۔ حکومت نے گزشتہ 32 ماہ کے دوران فیس ری ایمبرسمنٹ پر 3,488 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں اور حقیقی تعلیمی اداروں کے لیے یہ اسکیم جاری رکھی جائے گی۔
تعلیمی شعبے میں وسیع تر اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت ہر سرکاری اسکول کے طالب علم پر ماہانہ 1.08 لاکھ روپے خرچ کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے 'FRBM' کی حد کے اندر 4,000 کروڑ روپے کا تعلیمی قرض فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اساتذہ کو بھی 'IAS' اور 'IPS ' افسران کی طرح ایک سال کی بیرون ملک تعلیمی رخصت لینے کا موقع دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اراکین اسمبلی اور اراکین قانون ساز کونسل کو مہارتوں کی ترقی کے ماڈلز کا مطالعہ کرنے کے لیے جاپان، چین، جرمنی اور جنوبی کوریا بھیجا جائے گا۔
ریونت ریڈی نے بتایا کہ حکومت طلبہ کو جوتے، یونیفارم اور دیگر ضروری اشیا فراہم کرنے پر 687 کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں اپوزیشن کی جانب سے لگائے گئے 2,000 کروڑ روپے کے گھپلے کے الزامات کو مسترد کردیا۔
تلنگانہ پبلک اسکول ماڈل کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کا ان کا ذاتی تجربہ ہی تعلیم کے بارے میں ان کے نقطہ نظر کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے اور جب سے انہوں نے وزیر تعلیم کا عہدہ سنبھالا ہے، سرکاری اسکولز میں طلبہ کی تعداد میں 86,000 کا اضافہ ہوا ہے۔ محکمہ تعلیم کا قلمدان اپنے پاس رکھنے پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی حکومت تعلیم کے شعبے کو کتنی اہمیت دیتی ہے۔