حج 2026 کے مقدس سفر کا آغاز ہو چکا ہے ۔ اس سلسلہ میں عازمینِ حج کا پہلا قافلہ آج دہلی سے روانہ ہو ا۔371 عازمین پر مشتمل یہ قافلہ اس سال ہندوستان سے حج سفر کے باقاعدہ آغاز ہے۔حکام کے مطابق رواں سال ملک بھر سے مجموعی طور پر تقریباً 1 لاکھ 75 ہزار 25 عازمینِ حج مقدس فریضہ ادا کرنے کے لیے سعودی عرب روانہ ہوں گے۔ دہلی سے بھی بڑی تعداد میں عازمین شریک ہو رہے ہیں۔دارالحکومت کے امبارکیشن پوائنٹ سے تقریباً 3 ہزار 226 افراد حج کی سعادت حاصل کریں گے۔
ملک کی مختلف ریاستوں سے عازمین حج :
ملک کی مختلف ریاستوں میں جھارکھنڈ سے کل 1500 عازمین اس سال حج کے لیے روانہ ہوں گے ، آج سینکڑوں آزمینِ حج کی کولکتہ سے جدہ کے لیے فلائٹ ہے۔ جموں و کشمیر سے بھی حج کی فلائٹیں 18 اپریل کو سری نگر ایمبارکیشن پوائنٹ سے روانہ ہوں گی۔ آسام اور نارتھ ایسٹ کے پانچ ریاستوں کے حاجی 18 تاریخ سے مکہ کے لیے آسام کی گواہاٹی میں واقع اسلام پور حج مسافر خانہ سے روانہ ہوں گے۔
پورے آسام سے اس بار 2569 حاجی روانہ ہوں گے، جن میں 1765 مرد اور 806 خواتین شامل ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر حاجی کولکتہ، دہلی، ممبئی، بینگلور، حیدرآباد سے روانہ ہوں گے، حاجیوں کی حفاظت اور سہولت کے لیے نارتھ ایسٹ کے پانچ ریاستوں کی حج ریسیپشن کمیٹی کے چیئرمین نیکیبور زمان پوری طرح تیاری کر چکے ہیں۔
حج مسافروں کو یہ دستاویزات ساتھ لے جانے ہوں گے :
حکام نے زائرین سے درخواست کی ہے کہ وہ مقررہ وقت کی سختی سے پابندی کریں، تاکہ پرواز بھرنے کا عمل آسانی سے ہو سکے۔ زائرین کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ساتھ تمام ضروری دستاویزات، جن میں پاسپورٹ، ویزہ کی کاپی اور درست صحت یا ٹیکہ کاری کا سرٹیفکیٹ شامل ہیں، ضرور رکھیں۔