Wednesday, May 20, 2026 | 02 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • آسنسول میں علماء و انتظامیہ کی اہم مشترکہ نشست، امن و امان پر زور

آسنسول میں علماء و انتظامیہ کی اہم مشترکہ نشست، امن و امان پر زور

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: May 19, 2026 IST

آسنسول میں علماء و انتظامیہ کی اہم مشترکہ نشست، امن و امان پر زور
آسنسول کے رادھا بھون میں ایک نہایت اہم اور باوقار مشترکہ مشاورتی نشست منعقد ہوئی جس میں ضلع کے اعلیٰ پولیس حکام، ایس پی صاحب، ڈی ایس پی صاحب اور دیگر ذمہ دارانِ پولیس کے ساتھ ساتھ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے جید علماء کرام، ائمہ مساجد، خطباء عظام اور دینی و سماجی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
 
یہ نشست ایک وسیع اور نمائندہ عوامی و دینی مشاورت کی حیثیت رکھتی تھی جس میں نہ صرف مساجد کے ائمہ و خطباء بلکہ عیدگاہ کی مرکزی مسجد کے امام صاحب سمیت مختلف مساجد کے ذمہ داران بھی شریک رہے۔ اس کے علاوہ متعدد دینی مدارس کے منتظمین اور مسجد و مدارس کی کمیٹیوں کے اراکین بھی سینکڑوں کی تعداد میں موجود رہے، جس کے باعث اجلاس کی اہمیت اور نمائیندگی مکمل ہوئی 
 
اجلاس کا پس منظر اور بنیادی امور
 
اس اہم نشست کا بنیادی مقصد علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھتے ہوئے انتظامیہ اور دینی طبقے کے درمیان باہمی ہم آہنگی اور تعاون کو مزید مضبوط بنانا تھا۔
 
اجلاس میں دو اہم اور حساس امور تفصیل کے ساتھ زیرِ بحث آئے:
 
اول: ساؤنڈ سسٹم کے استعمال سے متعلق ضوابط
 
انتظامیہ کی جانب سے ساؤنڈ سسٹم کے استعمال کے حوالے سے حکومتی ہدایات اور مقررہ معیار پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ اس موقع پر علماء کرام اور تمام شرکاء نے باہمی مشاورت کے بعد اس امر پر مکمل اتفاق کیا کہ آئندہ تمام مذہبی اجتماعات، خطبات، جلسوں اور دیگر پروگراموں میں ساؤنڈ سسٹم کو مقررہ حد 55 ڈسیبل کے اندر ہی استعمال کیا جائے گا تاکہ شہری زندگی متاثر نہ ہو اور امن و سکون برقرار رہے۔
 
علماء کرام نے اس موقع پر اس بات پر زور دیا کہ شریعتِ مطہرہ کی تعلیمات بھی امن، نظم اور حقوق العباد کی ادائیگی پر مبنی ہیں، لہٰذا ایسے تمام معاملات میں اعتدال اور قانون کی پابندی ضروری ہے۔
 
عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے امور
 
عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے حوالے سے حکومتی قوانین اور ضوابط پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر انتظامیہ نے موجودہ قانونی صورتحال اور رہنما اصولوں سے آگاہ کیا۔
 
علماء کرام نے نہایت ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بات کا یقین دلایا کہ وہ علاقے میں امن و امان، باہمی بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے حکومتی ضوابط کا احترام کریں گے اور ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔
 
اس موقع پر اس امر پر بھی اتفاق پایا گیا کہ قانون کی پاسداری اور معاشرتی امن کو ہر صورت میں مقدم رکھا جائے گا تاکہ کسی بھی قسم کی بدامنی یا غلط فہمی کی گنجائش باقی نہ رہے۔
اس اہم نشست میں مختلف مکاتبِ فکر کے جید علماء کرام اور ائمہ مساجد نے شرکت کی، جن میں خطباء مساجد، عیدگاہ کے امام صاحب، متعدد دینی مدارس کے ذمہ داران اور سینکڑوں کی تعداد میں مسجد و مدرسہ کمیٹیوں کے اراکین شامل تھے۔
 
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ علماء کرام اور انتظامیہ کے درمیان مسلسل رابطہ اور مشاورت وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ علاقے میں امن، رواداری اور باہمی اعتماد کو فروغ دیا جا سکے۔ نشست میں درج ذیل جید علماء کرام نے خصوصی طور پر شرکت کی۔
 
مولانا قاری نثار احمد 
 
مولانا زین العابدین
 
مولانا ظفر القادری
 
مولانا صدام آرزو نعیمی
 
حافظ رضوان قادری
 
انکے علاوہ علاوہ کے تمام مکاتب فکر کے علماء وائمہ مساجد نے بھی شرکت کی۔
 
یہ تفصیلی رپورٹ ہمارے عزیز اور معروف خطیب و امام حضرت مولانا صدام آرزو نعیمی صاحب کی جانب سے نمائندگی کرنے والی ٹیم کو فراہم کی گئی، جنہوں نے اجلاس کی مکمل کارروائی، گفتگو اور متفقہ فیصلوں سے آگاہ کیا
 
اجلاس کے اختتام پر تمام شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آئندہ بھی انتظامیہ کے ساتھ مل کر علاقے میں امن و امان، باہمی رواداری، سماجی ہم آہنگی اور قانون کی مکمل پاسداری کو یقینی بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔
 
یہ نشست اس بات کی واضح مثال ہے کہ جب انتظامیہ اور علماء کرام باہمی مشاورت اور افہام و تفہیم کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو معاشرے میں امن، استحکام اور بھائی چارے کی فضا مزید مضبوط ہوتی ہے۔