قومی مردم شماری کے عمل کے آغاز سے قبل منی پور کی امپھال وادی میں ایک بار پھر کشیدگی کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔ ’میرا پائیبی‘ اور مختلف سول سوسائٹی تنظیموں کی قیادت میں سینکڑوں خواتین نے سڑکوں پر نکل کر مشعل بردار جلوس نکالا اور مردم شماری سے پہلے ریاست میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) کو سختی سے نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے امپھال مشرقی اور امپھال مغربی اضلاع کے مختلف اہم راستوں پر مارچ کیا۔ اس دوران خواتین نے انسانی زنجیر بنا کر بھی اپنا احتجاج درج کرایا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ریاست میں آبادی سے متعلق درست اعداد و شمار کے لیے مردم شماری سے قبل شہریوں کی شناخت کا عمل واضح اور شفاف ہونا ضروری ہے۔
مردم شماری سے پہلے NRC کا مطالبہ
احتجاج کرنے والی تنظیموں کا بنیادی مطالبہ ہے کہ مردم شماری کے عمل سے پہلے NRC کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا جائے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر شہریوں کی مناسب شناخت اور تصدیق کے بغیر مردم شماری کی گئی تو غیر قانونی طور پر ریاست میں داخل ہونے والے افراد کے حوالے سے آبادی کے اعداد و شمار میں الجھن پیدا ہوسکتی ہے۔ مظاہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس صورت حال میں ایسے افراد بھی سرکاری ریکارڈ میں شامل ہوسکتے ہیں جن کی شہریت یا ریاست میں رہائش کی قانونی حیثیت واضح نہیں ہے۔
غیر قانونی ہجرت روکنے پر زور
خواتین مظاہرین نے حکومت سے غیر قانونی ہجرت پر قابو پانے، بیرونی افراد کی شناخت اور مقامی آبادی کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ منی پور کی مقامی آبادی کے مفادات، وسائل اور شناخت کے تحفظ کے لیے آبادی سے متعلق ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد نظام ضروری ہے۔ مظاہرین نے حکومت پر زور دیا کہ مردم شماری کے عمل کو شفاف بنایا جائے اور ریاست میں شہریوں کی شناخت سے متعلق موجود خدشات کو سنجیدگی سے حل کیا جائے۔
امپھال وادی میں سیاسی و سماجی حساسیت
منی پور میں گزشتہ عرصے سے آبادی، شناخت، نقل مکانی اور مقامی حقوق جیسے مسائل انتہائی حساس موضوعات بنے ہوئے ہیں۔ ایسے میں مردم شماری سے قبل خواتین کا سڑکوں پر نکلنا ریاست میں موجود تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔تاہم، مردم شماری اور شہریت سے متعلق کسی بھی دعوے یا الزام کی حتمی حقیقت سرکاری ریکارڈ اور متعلقہ اداروں کی تصدیق کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔ فی الحال مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مردم شماری سے پہلے NRC اور غیر قانونی ہجرت سے متعلق ان کے خدشات کا واضح حل پیش کیا جائے۔