فرانس کے شمالی علاقے نارمنڈی میں جمعہ کی شام ایک ٹرین پٹری سے اتر گئی، جس کے نتیجے میں 44 افراد زخمی ہوگئے۔ یہ حادثہ مقامی وقت کے مطابق تقریباً ساڑھے 7 بجے روئن (Rouen) اور کین (Caen) کے درمیان کلیون (Cleon) قصبے کے قریب پیش آیا۔ مقامی انتظامیہ کے سربراہ ژان بنوا البرٹینی نے بتایا کہ زخمیوں میں سے ایک شخص کی حالت تشویشناک ہے، جسے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا۔ فرانسیسی پولیس کے مطابق ٹرین ایک نامعلوم چیز سے ٹکرانے کے بعد پٹری سے اتر گئی۔ ریلوے آپریٹر ایس این سی ایف (SNCF) نے کہا ہے کہ حادثے کی اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
زخمیوں کی تعداد 44 ہوگئی
فرانس کے وزیرِ ٹرانسپورٹ فلپ ٹابروٹ نے بتایا کہ حادثے کے وقت ٹرین میں 186 مسافر سوار تھے۔ مسافروں اور زخمیوں کی مدد کے لیے جائے وقوعہ پر 140 فائر فائٹرز موجود ہیں۔ابتدائی طور پر وزیرِ ٹرانسپورٹ نے تقریباً 20 زخمی بتائے تھے، لیکن بعد میں سرکاری معلومات کے مطابق تعداد 44 ہوگئی۔ ان میں ایک 18 سالہ خاتون کی حالت تشویشناک تھی، جبکہ 43 افراد کو نسبتاً معمولی نوعیت کے زخم آئے۔130 فائر فائٹرز، 5 میڈیکل ٹیمیں اور 80 گاڑیاں موقع پر پہنچیں، رپورٹ کے مطابق امدادی کاروائی میں 130 فائر فائٹرز، 5 طبی ٹیمیں اور 80 گاڑیاں شامل تھی
ٹرین ڈرائیور کے الکوحل اور منشیات کے ٹیسٹ منفی آئے
تفتیش کے دوران ڈرائیور کے الکوحل اور منشیات کے ٹیسٹ کیے گئے، جن کے نتائج منفی آئے۔ مقامی انتظامیہ نے لوگوں کو حادثے کے علاقے میں جانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ حادثے کے بعد روئن اور کین کے درمیان، جبکہ کین اور لو ہاور (Le Havre) کے درمیان ٹرین سروس بھی معطل کردی گئی ہے۔ ان روٹس پر مسافروں کے لیے بس سروس چلائی جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق ایک ڈبہ الٹ گیا جبکہ چار دیگر ڈبے پٹری سے اتر گئے۔
پولیس نے باقاعدہ تحقیقات شروع کردی ہیں
روئن کی جوڈیشل پولیس کو حادثے کی وجوہات اور شدید زخمی ہونے کے معاملے کی تحقیقات سونپی گئی ہیں۔ حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی اصل وجہ ابھی معلوم نہیں ہوئی اور تحقیقات میں وقت لگ سکتا ہے۔
ریلوے ٹریفک پر شدید اثر پڑا
روئن-کین اور کین-لو ہاور کے درمیان ٹرین سروس متاثر ہونے کے علاوہ، رپورٹ میں بتایا گیا کہ پیرس سے روئن اور لو ہاور جانے والی کچھ ٹرینیں 2 گھنٹے 40 منٹ سے 3 گھنٹے تک تاخیر کا شکار ہوئیں۔