ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کو ہدایت دی ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی چھوٹی کشتیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان بحری محاذ پر تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق امریکہ نے تیل کی ترسیل کے اہم راستے میں بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کی کارروائیوں میں تیزی لائی ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر انتہائی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے تقریباً 20 فیصد عالمی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے کارگو جہازوں کو نشانہ بنانے اور جہاز رانی میں خلل ڈالنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے جواب میں امریکہ نے بحر ہند میں ایرانی تیل کی اسمگلنگ سے منسلک ایک ٹینکر کو قبضے میں لے لیا ہے۔
دریں اثنا، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور اہم پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی بات چیت کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع پر اتفاق کیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق امریکہ میں اسرائیلی اور لبنانی سفیروں کے درمیان ہونے والی ملاقات مثبت رہی، اور یہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوسری اعلیٰ سطحی بات چیت تھی۔ ابتدائی 10 روزہ جنگ بندی، جو گزشتہ جمعہ کو نافذ ہوئی تھی، پیر کو ختم ہونے والی تھی، تاہم نئی پیش رفت کے بعد اسے مزید تین ہفتوں کے لیے بڑھا دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ، لبنان کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ وہ حزب اللہ سے درپیش خطرات کا مقابلہ کر سکے۔ ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ وہ جلد ہی اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور لبنانی قیادت سے ذاتی ملاقات کریں گے تاکہ خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔