• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • حملہ رکا یا نئی حکمت عملی, ٹرمپ کے بیان سے ہلچل، سعودی عرب نےکی امن اپیل

حملہ رکا یا نئی حکمت عملی, ٹرمپ کے بیان سے ہلچل، سعودی عرب نےکی امن اپیل

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 02, 2026 IST

حملہ رکا یا نئی حکمت عملی, ٹرمپ کے بیان سے ہلچل، سعودی عرب نےکی امن اپیل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے کا فریم ورک تیار ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ فی الحال ایران کے خلاف نئے امریکی حملوں کی ہدایت نہیں دیں گے کیونکہ ایک وسیع معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس میں امریکہ کے علاقائی اتحادی بھی شامل ہوں گے۔ٹرمپ کے مطابق معاہدے میں آبنائے ہرمز کو کھولنا اور ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق عالمی خدشات کو دور کرنا شامل ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل اس معاہدے کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے پر راضی ہو گیا ہے۔

ٹرمپ نے حملہ روکنے کا کیا اعلان 

ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایک منصوبہ بند فوجی حملے کو فی الحال منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن معاہدے کی جانب اہم پیش رفت ہوتی رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ دنیا کے مستقبل اور ایک کامیاب و خوشحال ایران کے لیے کیا گیا ہے، تاکہ جلد ایک معاہدہ ممکن ہو سکے۔ ٹرمپ کے مطابق اسرائیل بھی امریکہ کے ساتھ مل کر تنازع کو ختم کرنے کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششوں میں شامل ہوگا۔

سعودی ولی عہد نے مزید کشیدگی پر تشویش ظاہر کی

اس سے پہلے محمد بن سلمان نے ٹرمپ سے گفتگو کی اور خدشہ ظاہر کیا کہ ایران کے خلاف مزید امریکی کارروائی سے خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب کو خدشہ ہے کہ اگر امریکہ ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے یا اہم تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے تو ایران جواب میں سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے توانائی کے مراکز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ سعودی ولی عہد نے ٹرمپ سےفوجی اقدامات کے بارے میں بھی وضاحت طلب کی۔

سعودی عرب نے سفارت کاری پر زور دیا

اس ہفتے کے آغاز میں سعودی عرب نے عراق میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے زیر استعمال لاجسٹکس اور ہتھیاروں کے مقامات کو نشانہ بنانے میں امریکہ کا ساتھ دیا تھا، لیکن ریاض نے امریکہ اور ایران دونوں پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا ہے۔ سعودی ولی عہد نے اپنے بھائی اور سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان کو بھی واشنگٹن بھیجا، جہاں انہوں نے ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس سے الگ الگ ملاقاتیں کیں تاکہ بدلتی ہوئی صورتحال پر بات چیت کی جا سکے۔

امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے لیے سفری الرٹ جاری کیا

ایران تنازع کے درمیان امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے 10 ممالک کا سفر کرنے والے اپنے شہریوں کے لیے نئی سیکیورٹی ایڈوائزری جاری کی ہے۔ ان ممالک میں بحرین، اسرائیل، عراق، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ امریکی شہریوں کو احتیاط برتنے، ممکنہ پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی عارضی بندش اور دیگر سفری مشکلات کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ایران تنازع ٹرمپ انتظامیہ کے لیے بڑا چیلنج

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی ٹرمپ انتظامیہ کے لیے خارجہ پالیسی کا ایک بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔ اس تنازع کے باعث خطے کے استحکام، عالمی توانائی کی منڈیوں اور امریکی معیشت پر ممکنہ اثرات کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔