امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےبڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران انہیں قتل کرنے میں کامیاب ہو گیا تو امریکہ ایران کے خلاف ایسی فوجی کاروائی کرے گا اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔
امریکی اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی متعلقہ حکام کو ہدایات دے رکھی ہیں کہ اگر ان کے ساتھ کچھ ہوتا ہے تو ایران پر انتہائی سخت حملہ کیا جائے گا ۔
ٹرمپ کا دعویٰ
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کافی عرصے سے انہیں اپنا دشمن سمجھتا ہے اور وہ کئی سالوں سے ایران کا نشانہ پر ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس وقت انہیں ایسی کوئی نئی خفیہ اطلاع نہیں ملی جس سے معلوم ہو کہ ان کے خلاف فوری طور پر کوئی قتل کی سازش تیار کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ان کے ساتھ کوئی واقعہ پیش آیا تو امریکہ ایران کو ایسا جواب دے گا جو پہلے کبھی نہیں دیا گیا۔
اسرائیل کی خفیہ اطلاع پر وضاحت
کچھ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل نے امریکہ کو اطلاع دی ہے کہ ایران، ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے انہیں ایسی کوئی نئی معلومات فراہم نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہی کئی سالوں سے ایران کے نشانے پر ہیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔
بات چیت کے دوران انہوں نے نرم انداز میں کہا کہ اگر ان کے ساتھ کچھ ہو جائے تو لوگ انہیں یاد رکھیں گے۔
ایران ٹرمپ سے بدلہ کیوں لینا چاہتا ہے؟
ٹرمپ کے مطابق ایران 2020 سے ان سے بدلہ لینا چاہتا ہے۔ اسی سال ان کے ہدایت پر امریکی ڈرون حملے میں ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی بغداد کے قریب مارے گئے تھے۔اس واقعے کے بعد ایران نے کئی مرتبہ ٹرمپ سے بدلہ لینے کی بات کی ہے۔
امریکی حکام بھی گزشتہ چند سالوں میں ایسے کئی مبینہ منصوبوں کا ذکر کر چکے ہیں جنہیں ایران سے جوڑا گیا اور جن میں ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔
اس کے علاوہ جولائی 2024 میں انتخابی مہم کے دوران امریکی ریاست پنسلوانیا(Pennsylvania) کے شہر بٹلر میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ بھی ہوا تھا، جس میں گولی ان کے کان کو چھو کر گزر گئی تھی،لیکن وہ محفوظ رہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران نے امریکہ سے دوبارہ مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی ہے اور امریکہ نے بات چیت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایران کو واضح کر دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے جو جنگ بندی تھی، وہ اب ختم ہو چکی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بھی لکھا کہ ایران نے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے، لیکن امریکہ نےایران کے ساتھ مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی پہلے ہی کافی بڑھ چکی ہے، اور ٹرمپ کے اس تازہ بیان کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات پر ایک بار پھر عالمی توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔