• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ٹرمپ کی نئی فارما پالیسی، بیرونِ ملک تیار ادویات پر بھاری ٹیرف کا اعلان

ٹرمپ کی نئی فارما پالیسی، بیرونِ ملک تیار ادویات پر بھاری ٹیرف کا اعلان

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jul 22, 2026 IST

ٹرمپ کی نئی فارما پالیسی، بیرونِ ملک تیار ادویات پر بھاری ٹیرف کا اعلان
 
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے درآمد کی جانے والی جنرک (Generic) ادویات پر نئی ٹیرف (درآمدی ٹیکس) پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد یہ ہے کہ دوا ساز کمپنیاں اپنی فیکٹریاں دوسرے ممالک کے بجائے امریکہ میں قائم کریں۔
 

نیا ٹیرف پلان کیا ہے؟

ٹرمپ کے مطابق یکم اگست 2026 سے درآمد ہونے والی جنرک ادویات پر اگلے دو سال تک کوئی ٹیرف (0 فیصد) نہیں لگے گا۔
اس کے بعد: 2028 سے ایک سال کے لیے 100 فیصد ٹیرف نافذ ہوگا- اس کے بعد 200 فیصد ٹیرف وصول کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے اس فیصلے کا اعلان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر کیا۔
 

یہ فیصلہ کیوں کیا گیا؟

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد دوا ساز کمپنیوں کو امریکہ میں نئی فیکٹریاں لگانے کی ترغیب دینا ہے تاکہ ادویات کی تیاری امریکہ میں ہوں اور بیرونِ ملک تیار ہونے والی ادویات پر انحصار کم ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کمپنیوں کو اپنی پیداوار امریکہ منتقل کرنے کے لیے وقت دیا ہے۔ اگر اس مدت میں کمپنیاں امریکہ میں پلانٹس اور مشینری قائم نہیں کرتی تو بعد میں انہیں زیادہ ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔
 

ٹرمپ کا دعویٰ

ٹرمپ نے کہا کہ ان کی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے امریکہ میں فارماسیوٹیکل فیکٹریاں تیزی سے قائم ہو رہی ہیں، جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ، برانڈڈ اور نئی ایجاد کی گئی ادویات سے متعلق موجودہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی۔
 
 
جنرک ادویات کیوں اہم ہیں؟
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) کے مطابق، امریکہ میں بھرے جانے والے 90 فیصد سے زیادہ نسخہ جنرک ادویات کے ہوتے ہیں۔ یہ ادویات نسبتاً سستی ہونے کی وجہ سے امریکی صحت کے نظام کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں۔
 

ٹرمپ کی وسیع حکمت عملی

یہ منصوبہ ٹرمپ کی اس بڑی پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکہ میں دواسازی کی صنعت کو مضبوط بنانا اور ادویات کی قیمتیں کم کرنا ہے۔ اس سے پہلے بھی ٹرمپ انتظامیہ "Most Favored Nation" قیمتوں کی پالیسی متعارف کرا چکی ہے تاکہ ادویات کی قیمتوں میں کمی لائی جا سکے۔ گزشتہ سال کئی بڑی دوا ساز کمپنیوں نے امریکی حکومت کے ساتھ ایسے معاہدے کیے تھے جن کے تحت اربوں ڈالر مالیت کی کچھ ادویات پر  ٹیرف لازم قرار دیا گیا تھا۔اس کے علاوہ ٹرمپ نے درآمد شدہ برانڈڈ ادویات پر بھی ٹیرف عائد کیا تھا،اگر کوئی کمپنی حکومت کے ساتھ قیمتوں کے معاہدے پر راضی ہو جائے یا امریکہ میں اپنی دوائیں تیار کرنے کا فیصلہ کرے تو اسے اس معاملے میں رعایت دی جا سکتی ہے۔