مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کا اثر بھارت پر پڑ رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اس جنگ کی وجہ سے ملک کے 25 لاکھ افراد کے غربت میں دھکیلنے کا خطرہ ہے۔ مغربی ایشیا میں بحران کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں پہلے ہی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ کئی ممالک میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ اقوام متحدہ نے حال ہی میں کہا ہے کہ اس بحران کا ہندوستان پر بھی سنگین اثر پڑے گا۔
دنیا بھر کے8.8ملین افراد غربت کا خطرے!
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے 'مغربی ایشیا میں فوجی کشیدگی۔ ایشیا اور بحرالکاہل میں انسانی ترقی پر اثرات' کے عنوان سے ایک رپورٹ تیار کی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق جنگ کے اثرات سے ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے میں ترقی میں کمی آئے گی۔ اس نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ دنیا بھر میں 8.8 ملین افراد غربت میں دھکیلنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اندازہ ہے کہ یہ اثر چین میں بھی محسوس کیا جائے گا۔
جنگ سے قوت خرید متاثر
بتایا گیا ہے کہ جنگ سے خاندانوں کی قوت خرید متاثر ہو گی۔ یہ انکشاف ہوا ہے کہ خوراک سے متعلق مسائل بڑھیں گے اور حکومتی بجٹ پر بوجھ ڈالیں گے۔ بتایا گیا ہے کہ لوگوں کی روزی روٹی پر اثر پڑے گا۔ اس جنگ کے اثرات بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور فلپائن سمیت کئی ممالک میں خوراک کی حفاظت کے دباؤ کو مزید خراب کر دیں گے۔
جنگ سے مزید مشکلات میں اضافہ
اس میں کہا گیا کہ اگر جنگ طویل عرصے تک جاری رہی تو ہندوستان میں یوریا کے ذخائر ختم ہو جائیں گے۔ اس نے اندازہ لگایا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ارد گرد کشیدگی کی وجہ سے ہندوستان میں طبی آلات کے خام مال کی قیمتوں میں پچاس فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔ اس نے یاد دلایا کہ ادویات کی قیمتیں پہلے ہی دس سے پندرہ فیصد بڑھ چکی ہیں۔
شاعرساحر لدھیانوی نے لکھا ہے اے شریف انسانوں
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں كا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی
بھوک اور احتیاج کل دے گی
اس لئے اے شریف انسانو
جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے
آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں
شمع جلتی رہے تو بہتر ہے